مرنا ؔ بہترہے۔ پادری صاحبان خوب جانتے ہیں کہ جھوٹوں پر یسوع نے بھی بددعائیں کی ہیں۔ چنانچہ یسوع متی باب ۲۳ میں یہود کے علماء کو مخاطب کرکے کہتا ہے۔ ’’اے سانپو اور سانپ کے بچو تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھاگو گے۔ ۳۶۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانہ کے لوگوں پر آوے گا یعنی عذاب اور باب ۲۳ آیت ۱۳ میں یسوع بار بار جھوٹوں مکاروں کی تباہی چاہتا ہے اور ویل کا لفظ استعمال کرتا ہے جو ہمیشہ بددعا کے لئے آتا ہے۔ غرض ایسا جھوٹا جو جھوٹ کو کسی طرح چھوڑنا نہ چاہے اس کا وجود تمام فتنوں سے زیادہ فتنہ ہے اور فتنہ کو ہریک طرح سے فرو کرنا راستبازوں کا فرض ہے۔ پس جس حالت میں عیسائی نہایت غلوّ سے کہتے ہیں کہ دین اسلام انسان کا افترا ہے۔ اور اہل اسلام دلی یقین رکھتے ہیں کہ عیسائی درحقیقت انسان پرست ہیں تو کیا لازم نہیں ہے کہ جس طرح ہوسکے یہ بات فیصلہ پاجائے۔
ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسیٰ پرستی بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں۔ اور مریم کا بیٹا کشلّیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی۔ یوں تو آپ لوگ تمام دنیا کے مذہبوں پر حملہ کررہے ہیں مگر کبھی اپنے اس مثلث خدا کی نسبت بھی کبھی غور کی۔ کبھی یہ خیال آیاکہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اس پر انسان کی طرح کیونکر دکھ کی مار پڑ گئی۔ کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی ہی مخلوق سے کیونکر مار کھالی۔ کیا یہ سمجھ آسکتا ہے کہ بندے ناچیز اپنے خدا کو کوڑے ماریں، اس کے منہ پر تھوکیں، اس کو پکڑیں، اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائے بلکہ خدا کہلا کر پھر اس پر موت بھی آجائے۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ تین مجسم خدا ہوں ایک وہ مجسم جس کی شکل پر آدم ہوا۔ دوسرا یسوع۔ تیسرا کبوتر* اور تینوں میں سے ایک بچہ والا اور دو لاولد۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خدا شیطان کے
* نوٹ۔ عیسائی صاحبان کبوتروں کو شوق سے کھاتے ہیں۔ حالانکہ کبوتر ان کا دیوتا ہے۔ ان سے ہندو اچھے رہے کہ اپنے دیوتا بیل کو نہیں کھاتے ۔ منہ