کیؔ آزادی جیسا کہ پادریوں کو حاصل ہے ویسا ہی ہمیں بھی ہے اگر ہم گورنمنٹ کے انصاف پر یقین نہ رکھتے تو ممکن نہ تھا کہ ان اپنی شکایتوں کا اظہار بھی کرسکتے لیکن ہم گورنمنٹ کو یہ تکلیف دینا ہی نہیں چاہتے کہ وہ مذہبی مباحثات کی آزادی کو بالکل بند کردے۔ ہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ ان شرائط کی پابندی سے کسی قدر اس آزادی کو محدود کر دیا جائے جس کی نسبت ہم ایک علیحدہ اشتہار شائع کرچکے ہیں لیکن گورنمنٹ اپنی مہمات ملکیہ میں مصروف ہے اس کو اس فیصلہ کے لئے تو فرصت نہیں کہ توحید اور تین مجسم خداؤں کے عقیدہ کے بارے میں کچھ اپنی رائے لکھے اور وہ کارروائی کرے جیسا کہ تیسری صدی کے بعد کانسٹنٹائن فرسٹ قسطنطنیہ کے بادشاہ نے اڑھائی سو بشپ کو جمع کرکے اپنے اجلاس میں موحد عیسائیوں اور تین اقنوم کے قائل عیسائیوں کا باہم مباحثہ کرایا تھااور آخر کار فرقہ موحدین کو ڈگری دی تھی اور خود ان کا مذہب بھی قبول کر لیا تھا ایسا ہی یہ گورنمنٹ عالیہ بھی کرے* لیکن یہ گورنمنٹ ایسے تنازعات میں پڑنا نہیں چاہتی۔ پس یہ روز افزوں جھگڑے کیونکر فیصلہ پاویں۔ مباحثات کے نیک نتیجہ سے تو نومیدی ہوچکی بلکہ جیسے جیسے مباحثات بڑھتے حاشیہ۔ عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ تیسری صدی کے بعد ایجاد ہوا ہے۔ جیسا کہ ڈریپر بھی اپنی کتاب میں بڑے بڑے علماء کے حوالہ سے لکھتا ہے موجد اس مسئلہ کا بشپ اتھاناسی اس الگزنڈرائن تھا جو صدی سوم کے بعد ہوا ہے۔ جب اس نے یہ مسئلہ شائع کرنا چاہا تو اسی وقت بشپ ایری اس اسکا منکر کھڑا ہوگیا اور یہاں تک اس مباحثہ میں عوام اور خواص کا مجمع ہوا کہ روم کے بادشاہ تک خبر پہنچ گئی۔ اتفاقاً اس کو مباحثات سے دلچسپی تھی اس نے چاہا کہ اس اختلاف کو اپنے حضور میں ہی فریقین کے علماء سے رفع کرا دے چنانچہ اس کے اجلاس میں بڑی سرگرمی سے یہ مباحثات ہوئے اور نہایت لطف کے ساتھ کونسل کی کرسیاں بچھیں اور مناظرہ کرنے والے دو سو پچاس نامی پادری تھے۔ آخر موحدین کا فرقہ جو یسوع کو محض انسان اور رسول جانتا تھا غالب آیا۔ اسی دن بادشاہ نے یونی ٹیرین کا مذہب اختیار کیا اور چھ بادشاہ اس کے بعد موحد رہے۔ چنانچہ جس قیصر کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھا تھاجس کا ذکر صحیح بخاری میں پہلے صفحہ میں ہی موجود ہے وہ بھی موحد ہی تھا اس نے قرآن کے اس مضمون پر اطلاع پاکر کہ مسیح صرف انسان ہے تصدیق کی