اورؔ چونکہ ان کے عقیدہ کے موافق یسوع خدا ہے اور یہ ساری بے رحمی کی کارروائیاں اس کے حکم سے ہوئی ہیں اور وہ مجسم خدا ہے جیسا کہ بیان ہوچکاتو اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ سب سے پہلے اس کی تصویر کھینچ کر اس کے ہاتھ میں کم سے کم تین تلواریں دی جاتیں۔ پہلی وہ تلوار جو اس نے موسیٰ کو دی اور بے گناہ شیر خوار بچوں کو قتل کروایا۔ دوسری وہ تلوار جو یشوع بن نون کو دی۔ تیسری وہ تلوار جو داؤد کو دی۔ افسوس !کہ اس حق پوش قوم نے بڑے بڑے ظلموں پر کمر باندھ رکھی ہے۔ اگر تلوار کے ذریعہ سے خدا کا عذاب نازل ہونا خدا کی صفات کے مخالف ہے تو کیوں نہ یہ اعتراض اول موسیٰ سے ہی شروع کیا جائے جس نے قوموں کو قتل کرکے خون کی نہریں بہا دیں اور کسی کی توبہ کو بھی قبول نہ کیا۔ قرآنی جنگوں نے تو توبہ کا دروازہ بھی کھلا رکھا جو عین قانون قدرت اور خدا کے رحم کے موافق ہے کیونکہ اب بھی جب خدا تعالیٰ طاعون اور ہیضہ وغیرہ سے اپنا عذاب دنیا پر نازل کرتا ہے تو ساتھ ہی طبیبوں کو ایسی ایسی بوٹیاں اور تدبیروں کا بھی علم دے دیتا ہے جس سے اس آتش وبا کا انسداد ہوسکے سو یہ موسیٰ کے طریق جنگ پر اعتراض ہے کہ اس میں قانون قدرت کے موافق کوئی طریق بچاؤ قائم نہیں کیا گیا۔ ہاں بعض بعض جگہ قائم بھی کیا گیا ہے مگر کلّی طور پر نہیں الغرض جبکہ یہ سنت اللہ یعنی تلوار سے ظالم منکروں کو ہلاک کرنا قدیم سے چلی آتی ہے تو قرآن شریف پر کیوں خصوصیت کے ساتھ اعتراض کیا جاتا ہے۔ کیا موسیٰ کے زمانہ میں خدا کوئی اور تھا اور اسلام میں کوئی اور ہوگیا یاخدا کو اس وقت لڑائیاں پیاری لگتی تھیں اور اب بُری دکھائی دیتی ہیں۔ اور یہ بھی فرق یاد رہے کہ اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اٹھانا حکم فرمایا ہے کہ جو اول آپ تلوار اٹھائیں اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں۔ یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت میں ہوکر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اٹھا کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔ قرآن کے رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا۔ لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ کھول کر بیان نہیں فرمایا اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں مگر اندھے دشمن