نحمدہٗ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم
یہ وہ رسالہ ہے جس کا نام
خدا کا فیصلہ ہے
پنجاب اور ہندوستان کے تمام پادری صاحبوں کے لئے
ایک احسن طریق فیصلہ
عیسائی صاحبوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جو لوگ تثلیث کا عقیدہ اور یسوع کا کفارہ نہیں مانتے وہ ہمیشہ کے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور وہ اعتقاد جو خداتعالیٰ نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے مسلمانوں کو سکھایا ہے وہ یہ ہے کہ بجز توحید کے نجات نہیں۔ یہی توحید ہے جس کی رو سے تمام دنیا سے مواخذہ ہوگا خواہ قرآن ان کو نہ پہنچا ہو۔ کیونکہ یہ انسان کے دل میں فطرتی نقش ہے کہ اس کا خالق اور مالک اکیلا خدا ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ اس توحید میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو زبردستی منوانی پڑے کیونکہ انسانی دل کی بناوٹ کے ساتھ ہی اس کے نقوش انسان کے دل میں منقش کئے جاتے ہیں۔
مگر جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے غیر محدود خدا کو تین اقنوم میں یاچار اقنوم میں محدود کرنا اور پھر ہر ایک اقنوم کو کامل بھی سمجھنا اور ترکیب کا محتاج بھی اور پھر خدا پر یہ روا رکھنا کہ وہ ابتدا میں کلمہ تھا پھر وہی کلمہ جو خدا تھا مریم کے پیٹ میں پڑا اور اس کے خون سے مجسم ہوااور معمولی راہ سے پیدا ہوا اور سارے دکھ خسرہ، چیچک دانتوں کی تکلیف جو انسان کو ہوتی ہیں سب اٹھائے آخر کو جوان ہوکر پکڑا گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا۔ یہ نہایت گندہ شرک ہے جس میں انسان کو خدا ٹھہرایا گیا ہے خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کے پیٹ میں پڑے اور مجسم ہو اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو۔ انسانی فطرت اس کو قبول نہیں کرسکتی کہ خدا پر ایسے دکھ کی مار اور یہ مصیبتیں پڑیں اور وہ جو تمام عظمتوں کا مالک اور تمام عزتوں کا سرچشمہ ہے اپنے لئے یہ تمام ذلتیں روا رکھے عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا کی اس رسوائی کا یہ پہلا ہی موقعہ ہے اور اس سے پہلے اس قسم کی ذلتیں خدا نے کبھی نہیں اٹھائیں۔ کبھی یہ امر وقوع میں نہیں آیا کہ خدا بھی انسان کی طرح کسی عورت کے رحم میں نطفہ میں مخلوط ہوکر قرار پکڑ گیا ہو۔ جیسے کہ لوگوں نے خدا کا نام سنا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ بھی انسان کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ۔یہ تمام وہ باتیں ہیں جن کا عیسائیوں کو خود اقرار ہے اور اس بات کا بھی اقرار ہے کہ گو پہلے یہ تین اقنوم تین جسم علیحدہ علیحدہ نہیں رکھتے تھے مگر اس خاص زمانہ سے جس کو اب ۱۸۹۶ء برس جاتا ہے تینوں اقنوم کے لئے تین علیحدہ علیحدہ جسم مقرر ہوگئے باپ کی وہ شکل ہے جو آدم کی کیونکہ اس نے