ڈاکٹروں کے ذریعہ مثل فوجی سپاہیوں کے ملاحظہ کرایاجاوے گا اس سے فریقین کے مرض مذکور سے پاک ہونے کی وجہ
سے ڈاکٹری معائنہ کی ہمیشہ کے لئے ضرورت ہی نہ رہے گی۔ اس طرح بغیر قانون دکھائی جاری کرنے کے سپاہیوں کی خواہش نفسانی کے لئے عمدہ طور سے انتظام ہو سکتا ہے۔
اس بات سے تو
کوئی انکار ہی نہیں کر سکتا کہ ولایت میں مثل ہندوستان کے فاحشہ عورتیں موجود ہیں۔ اس لئے گورنمنٹ کو اس انتظام میں ذرا بھی دقت نہ ہوگی بلکہ ہمیں یقین ہے کہ یورپ کی ؔ مہذب کسبیاں بہادر
سپاہیوں کو خوش رکھنے کے لئے نہایت خوشی سے اپنی خدمات سپرد کر دیں گی۔ رہی یہ بات کہ ان عورتوں کے ہندوستان لانے اور واپس لے جانے میں گورنمنٹ کو رقم کثیر خرچ کرنی پڑے گی۔ اس
کا ہندوستان کے باشندوں کو ذرا بھی رنج نہ ہوگا جہاں وہ ملٹری ڈیپارٹمنٹ کے اخراجات کے لئے پہلے سے ہی لاتعداد روپیہ خوشی سے دیتے ہیں اس رقم کے اضافہ سے بھی ہرگز انہیں اختلاف نہ
ہوگا بلکہ وہ اس تجویز کو جس سے ہندوستان کی بدبخت عورتوں کی عفت بچ رہے گی اور برٹش گورنمنٹ کے بہادر گورے سپاہی تندرست اور خوش رہ سکیں گے۔ نہایت خوشی سے پسند کریں
گے۔
اگر گورنمنٹ ہند کو یہ مطلوب ہے کہ ہندوستان کے نوجوان بھی جن میں دیسی پلٹنوں اور رسالوں کے سپاہی بھی شامل ہیں بازاری عورتوں کے ذریعہ مریض ہونے سے بچ رہیں تو ہم تمام
ہندوستان کی فاحشہ عورتوں کیلئے قانون دکھائی کے جاری ہونے کو صدق دل سے پسند کرتے ہیں۔ کسی شریف ہندوستانی کو ان بدکار فاحشہ عورتوں کے ساتھ جو تمام قسم کے لوگوں کیلئے باعث
خرابی ہیں۔ ذرا بھی ہمدردی نہیں ہوسکتی۔ ہم قبل ازیں بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایسی عورتوں کیلئے جنہوں نے اپنے خاندان کے ناموس کو خیرباد کہہ دی ہے قانون دکھائی کی آزمائش باعث شرم نہیں ہو
سکتی ہے وہ عورتیں جو تھوڑے سے پیسوں میں بھنگی کے ساتھ منہ کالا کرنے کو تیار ہیں۔ معزز ڈاکٹر کے معائنہ سے کب شرمسار ہو سکتی ہیں۔ بے شک یہ افسوسناک امر ہے کہ عورتوں کی عفت کا
مردوں کے ذریعہ امتحان کرایا جائے۔ مگر کیا ہوسکتا ہے ان بے شرم بدذات عورتوں کیلئے جنہوں نے دنیا کی شرم کو بالائے طاق رکھ دیا ہے حق بات تو یہ ہے کہ قانون دکھائی کی ہندوستان میں سخت
ضرورت ہے۔ جب یہ قانون جاری تھا تو ہر