مال اس شخص کو مل جائے اور اگر وہ باپ نہیں بن سکا تو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ مسئلہ ہی جھوٹا ہے۔ اور نیز ایسا ہی ایک
شخص کسی کو بیٹا کہہ کر ایسا ہی فریب کر سکتا ہے اب چلو کہاں تک چلتے ہو ذرا اپنے وید کی سچائی تو ثابت کرو۔ بہتیرے راجے اور مہاراجے اپنی وفادار رعیت کو بیٹے اور بیٹیاں ہی سمجھتے
ہیں اور ساتھ ہی ان کی لڑکیاں بھی لے لیتے ہیں اور بہتیرے لوگ محبت یا ادب سے کسی کو باپ اور کسی کو بیٹا کہہ دیتے ہیں مگر ان کے وارث نہیں ہو سکتے۔
اب جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے
قرآن کریم میں پہلے ہی یہ حکم فرما دیا تھا کہ تم پر صرف ان بیٹوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں۔ جیسا کہ یہ آیت ہے۔
۱ یعنی تم پر فقط ان بیٹوں کی جورؤان حرام ہیں جو
تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں۔ پھر جبکہ پہلے سے یہی قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور میں آیا۔ تو اب ہریک
سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔ قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ اخیری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کہ متبنّٰی کی جورو
حرام نہیں ہو ؔ سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو دیکھ لو
اور ذرہ شرم کو کام میں لاؤ۔
اور پھر بعد اس کے سورۃ الاحزاب میں فرمایا۔ ۲ یعنی خدا تعالیٰ نے کسی کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے پس اگر تم کسی کو کہو کہ تو میرا دل ہے تو اس کے پیٹ میں
دو دل نہیں ہو جائیں گے