کا زمانہ نہ پاوے۔ اس کے اخلاق میں سے کچھ بھی ثابت نہ ہوگا۔ اور اگر کسی میدان جنگ میں حاضر نہیں ہوا تو یہ بھی ثابت نہ ہوگا کہ وہ دل کا بہادر تھا یا بزدل۔ اس کے اخلاق کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہم نہیں جانتے۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ اگر وہ اپنے دشمنوں پر قدرت پاتا تو ان سے کیا سلوک بجالاتا اور اگر وہ دولت مند ہو جاتا تو اس دولت کو جمع کرتا یا لوگوں کو دیتا اور اگر وہ کسی میدان جنگ میں آتا تو دم دبا کر بھاگ جاتا یا بہادروں کی طرح ہاتھ دکھاتا۔ مگر خدا کی عنایت اور فضل نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ان اخلاق کے ظاہر کرنے کا موقعہ دیا۔ چنانچہ سخاوت اور شجاعت اور حلم اور عفو اور عدل اپنے اپنے موقعہ پر ایسے کمال سے ظہور میں آئے کہ صفحۂ دنیا میں اس کی نظیر ڈھونڈنا لاحاصل ہے۔ اپنے دونوں زمانوں میں ضعف اور قدرت اور ناداری اور ثروت میں تمام جہان کو دکھلا دیا کہ وہ ذات پاک کیسی اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی جامع تھی اور کوئی انسانی خلق اخلاق فاضلہ میں سے ایسا نہیں ہے جو اس کے ظاہر ہونے کے لئے آپ کو خدا تعالیٰ نے ایک موقعہ نہ دیا۔ شجاعت، سخاوت، استقلال، عفو، حلم وغیرہ وغیرہ تمام اخلاق فاضلہ ایسے طور پر ثابت ہوگئے کہ دنیا میں اس کی نظیر کا تلاش کرنا طلب محال ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ جنہوں نے ظلم کو انتہا تک پہنچا دیا اور اسلام کو نابود کرنا چاہا خدا نے ان کو بھی بے سزا نہیں چھوڑا۔ کیونکہ ان کو بے سزا چھوڑنا گویا راست بازوں کو ان کے پیروں کے نیچے ہلاک کرنا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی جنگوں کی غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی لڑائیوں کی ہرگز یہ غرض نہ تھی کہؔ خواہ نخواہ لوگوں کو قتل کیا جائے۔ وہ اپنے باپ دادا کے ملک سے نکالے گئے تھے اور بہت سے مسلمان مرد اور عورتیں بے گناہ شہید کئے گئے تھے۔ اور ابھی ظالم ظلم سے باز نہیں آتے تھے اور اسلام کی تعلیم کو روکتے تھے۔ لہٰذا خدا کے قانون حفاظت نے یہ چاہا کہ مظلوموں کو بالکل نابود ہونے سے بچالے۔