ایسی ناپاک اور احمقانہ حرکتوں سے ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی نے بچا لیا۔ اب دیکھو کیسا
ثابت ہوا کہ الہام عقلمندوں کا رات کی طرح پردہ پوش ہے۔
یہ بھی آپ لوگ جانتے ہیں کہ خدا کے کامل بندے آسمان کی طرح ہر ایک درماندہ کو اپنے سایہ میں لے لیتے ہیں۔ خاص کر اس ذات پاک
کے انبیاء اور الہام پانے والے عام طور پر آسمان کی طرح فیض کی بارشیں برساتے ہیں۔ ایسا ہی زمین کی خاصیت بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ان کے نفس نفیس سے طرح طرح کے علوم عالیہ کے
درخت نکلتے ہیں۔ جن کے سایہ اور پھل اور پھول سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سو یہ کھلا کھلا قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے اسی چھپے ہوئے قانون کا ایک گواہ ہے۔ جس کی گواہی کو
قسموں۱ کے پیرایہ میں خدا تعالیٰ نے ان آیات میں پیش کیا ہے۔ سو دیکھو کہ یہ کس قدر ُ پر حکمت کلام ہے جو قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔ یہ اس کے منہ سے نکلا ہے جو ایک ا ّ می اور بیابان کا
رہنے والا تھا۔ اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو اس طرح عام عقلیں اور وہ تمام لوگ جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں اس کے اس دقیق نکتہ معرفت سے عاجز آکر اعتراض کی صورت میں اس کو نہ دیکھتے۔ یہ
قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جب ایک بات کو کسی پہلو سے بھی اپنی مختصر عقل کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا تب ایک حکمت کی بات کو جائے اعتراض ٹھہرا لیتا ہے اور اس کا اعتراض اس بات کا گواہ
ہو جاتا ہے کہ وہ دقیقہ حکمت عام عقلوں سے برتر و اعلیٰ تھا۔ تب ہی تو عقلمندوں نے عقلمند کہلا کر پھر بھی اس پر اعتراض کر دیا۔ مگر اب جو یہ راز کھل گیا تو اب اس کے بعد کوئی عقلمند اس پر
اعتراض نہیں کرے گا بلکہ اسؔ سے لذت اٹھائے گا۔
یاد رہے کہ قرآن شریف نے وحی اور الہام کی سنت قدیمہ پر قانون قدرت سے گواہی لانے کے لئے ایک اور مقام میں بھی اسی قسم کی قسم کھائی
ہے اور وہ یہ ہے۔