نجات پاگیا اور موت سے بچ گیا جس نے اس طرح پر نفس کو پاک کیا یعنی سورج اور چاند اور زمین وغیرہ کی طرح خدا میں
محو ہو کر خلق اللہ کا خادم بنا۔
یاد رہے کہ حیات سے مراد حیات جاودانی ہے جو آئندہ کامل انسان کو حاصل ہوگی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عملی شریعت کا پھل آئندہ زندگی میں حیات
جاودانی ہے جو خدا کے دیدار کی غذا سے ہمیشہ قائم رہے گی اور پھر فرمایا کہ وہ شخص ہلاک ہوگیا اور زندگی سے ناامید ہوگیا جس نے اپنے نفس کو خاک میں ملا دیا اور جن کمالات کی اس کو
استعدادیں دی گئی تھیں ان کمالات کو حاصل نہ کیا اور گندی زندگی بسر کر کے واپس گیا۔ اور پھر مثال کے طور پر فرمایا کہ ثمود کا قصہ اس بدبخت کے قصہ سے مشابہ ہے۔ انہوں نے اس اونٹنی کو
زخمی کیاجو خدا کی اونٹنی کہلاتی تھی اور اپنے چشمہ سے پانی پینے سے اس کو روکا۔ سو اس شخص نے درحقیقت خدا کی اونٹنی کو زخمی کیا اور اس کو اس چشمہ سے محروم رکھا۔ یہ اس بات
کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس خدا کی اونٹنی ہے جس پر وہ سوار ہوتا ہے یعنی انسان کا دل الٰہی تجلیات کی جگہ ہے اور اس اونٹنی کا پانی خدا کی محبت اور معرفت ہے جس سے وہ جیتی ہے
اور پھر فرمایا کہ ثمودنے جب اونٹنی کو زخمی کیا اور اس کو اس کے پانی سے روکا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔ اور خدا تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے
بچوں اور بیواؤں کا کیا حال ہوگا۔ سو ایسا ہی جو شخص اس اونٹنی یعنی نفس کو زخمی کرتا ہے اورؔ اس کو کمال تک پہنچانا نہیں چاہتا اور پانی پینے سے روکتا ہے وہ بھی ہلاک ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کے
مختلف اشیاء کی قسم کھانے میں حکمت
اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ خدا کا سورج اور چاند وغیرہ کی قسم کھانا ایک نہایت دقیق حکمت پر مشتمل ہے جس سے ہمارے اکثر مخالف ناواقف ہونے کی
وجہ سے اعتراض کر بیٹھتے