قوت اس میں پائی نہیں جاتی۔ مگر جب ہم انسان کی قوتوں کو ٹٹولتے ہیں کہ ان میں اعلیٰ سےؔ اعلیٰ کونسی قوت ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے اعلیٰ برتر کی اس میں تلاش پائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی محبت میں ایسا گداز اور محو ہو کہ اس کا اپنا کچھ بھی نہ رہے سب خدا کا ہو جائے۔ وہ کھانے اور سونے وغیرہ طبعی امور میں دوسرے حیوانات کو اپنا شریک غالب رکھتا ہے۔ صنعت کاری میں بعض حیوانات اس سے بہت بڑھے ہوئے ہیں۔ بلکہ شہد کی مکھیاں بھی ہر ایک پھول کا عطر نکال کر ایسا شہد نفیس پیدا کرتی ہیں کہ اب تک اس صنعت میں انسان کو کامیابی نہیں ہوئی۔ پس ظاہر ہے کہ انسان کا اعلیٰ کمال خدا تعالیٰ کا وصال ہے۔ لہٰذا اس کی زندگی کا اصل مدعا یہی ہے کہ خدا کی طرف اس کے دل کی کھڑکی کھلے۔ انسانی زندگی کے حصول کے وسائل ہاں اگر یہ سوال ہو کہ یہ مدعا کیونکر اور کس طرح حاصل ہو سکتا ہے اور کن وسائل سے انسان اس کو پا سکتا ہے۔ پس واضح ہو کہ سب سے پہلا وسیلہ۱؂ جو اس مدعا کے پانے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو صحیح طور پر پہچانا جائے اور سچے خدا پر ایمان لایا جائے۔ کیونکہ اگر پہلا قدم ہی غلط ہے اور کوئی شخص مثلاً پرند یا چرند یا عناصر یا انسان کے بچہ کو خدا سمجھ بیٹھا ہے تو پھر دوسرے قدموں میں اس کے راہ راست پر چلنے کی کیا امید ہے۔ سچا خدا اس کے ڈھونڈنے والوں کو مدد دیتا ہے مگر مردہ مردہ کو کیونکر مدد دے سکتا ہے۔ اس میں اللہ جلّ شانہ نے خوب تمثیل فرمائی ہے۔ اور وہ یہ ہے۔