تیسرا سوال دنیا میں زندگی کے مدعا کیا ہیں اور ان کا حصول کس طرح ہوتا ہے ۱؂ اس ؔ سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ مختلف الطبائع انسان اپنی کوتاہ فہمی یا پست ہمتی سے مختلف طور کے مدعا اپنی زندگی کے لئے ٹھہراتے ہیں اور فقط دنیا کے مقاصد اور آرزوؤں تک چل کر آگے ٹھہر جاتے ہیں مگر وہ مدعا جو خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں بیان فرماتا ہے وہ یہ ہے ۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۔ ۲؂ یعنی میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔ پس اس آیت کی رو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا کے لئے ہو جانا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو یہ تو مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا۔ بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے اسے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قویٰ اس کو عنایت کئے۔ اسی نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرا رکھا ہے۔ خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے۔ مگر انسان کی پیدائش کا مدعا بلاشبہ خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا میں فانی ہو جانا ہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک اور جگہ فرماتا ہے۔