ہوگی۔ اور پھر جو فرمایا کہ ستر۷۰ گز کی زنجیر میں اس کو داخل کرو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک فاسق بسا اوقات ستر برس کی عمر پالیتا ہے بلکہ کئی دفعہ اس دنیا میں اس کو ایسے ستر برس بھی ملتے ہیں کہ خورد سالی کی عمر اور پیر فرتوت ہونے کی عمر الگ کر کے پھر اس قدر صاف اور خالص حصہ عمر کا اس کو ملتا ہے جو عقلمندی اور محنت اور کام کے لائق ہوتا ہے لیکن وہ بدبخت اپنی عمدہ زندگی کے ستر۷۰ برس دنیا کی گرفتاریوں میں گذارتا ہے اور اس زنجیر سے آزاد ہونا نہیں چاہتا۔ سو خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ؔ ہے کہ وہی ستر برس جو اس نے گرفتاری دنیا میں گذارے تھے عالم معاد میں زنجیر کی طرح متمثل ہو جائیں گے جو سترگز کی ہوگی۔ ہر ایک گز بجائے ایک سال کے ہے۔ اس جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے بندہ پر کوئی مصیبت نہیں ڈالتا بلکہ وہ انسان کے اپنے ہی برے کام اس کے آگے رکھ دیتا ہے۔پھر اسی اپنی سنت کے اظہار میں خدائے تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ یعنی اے بدکارو! گمراہو! سہ گوشہ سایہ کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں۔ جو سایہ کا کام نہیں دے سکتیں اور نہ گرمی سے بچا سکتی ہیں۔ اس آیت میں تین شاخوں سے مراد قوت سبعی اور بہیمی اور وہمی ہے۔ جو لوگ ان تینوں قوتوں کو اخلاقی رنگ میں نہیں لاتے اور ان کی تعدیل نہیں کرتے۔ ان کی یہ قوتیں قیامت میں اس طرح پر نمودار کی جائیں گی کہ گویا تین شاخیں بغیر پتوں کے کھڑی ہیں اور گرمی سے بچا نہیں سکتیں۔ اور وہ گرمی سے جلیں گے۔ پھر ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنی اسی سنت کے اظہار کے لئے بہشتیوں کے حق میں فرماتا ہے۔