مرنے کے بعد ہی جنت میں آرام پائیں گے۔ چنانچہ اس قسم کی آیتیں قرآن شریف میں بکثرت ہیں کہ بمجرد موت کے ہر ایک
انسان اپنے اعمال کی جزا دیکھ لیتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ ایک بہشتی کے بارے میں خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے۔
یعنی اس کو کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو اور ایسا ہی ایک دوزخی کی خبر دے کر
فرماتا ہے۔
یعنی ایک بہشتی کا ایک دوست دوزخی تھا۔ جب وہ دونوں مر گئے تو بہشتی حیران تھا کہ میرا دوست کہاں ہے۔ پس اس کو دکھلایا گیا کہ وہ جہنم کے درمیانؔ ہے۔ سو جزا سزا کی
کارروائی تو بلاتوقف شروع ہو جاتی ہے اور دوزخی دوزخ میں اور بہشتی بہشت میں جاتے ہیں۔ مگر اس کے بعد ایک اور تجلّی اعلیٰ کا دن ہے جو خدا کی بڑی حکمت نے اس دن کے ظاہر کرنے کا
تقاضا کیا ہے کیونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا تاکہ وہ اپنی خالقیت کے ساتھ شناخت کیا جائے اور پھر وہ سب کو ہلاک کرے گا تاکہ وہ اپنی قہاریت کے ساتھ شناخت کیاجائے اور پھر ایک دن سب کو
کامل زندگی بخش کر ایک میدان میں جمع کرے گا تاکہ وہ اپنی قادریت کے ساتھ پہچانا جائے۔ اب جاننا چاہئے کہ دقائق مذکورہ میں سے یہ پہلا دقیقہ معرفت تھا جس کا بیان ہوا۔
دوسرا دقیقہ
معرفت
دوسرا دقیقہ معرفت جس کو عالم معاد کے متعلق قرآن شریف نے ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ عالم معاد میں وہ تمام امور جو دنیا میں روحانی تھے جسمانی طور پر متمثل ہوں گے خواہ عالم
معاد میں برزخ کا درجہ ہو یا عالم بعث کا درجہ۔ اس بارے میں جو کچھ خدا تعالیٰ نے