چیز کو اس کے وسیلہ کے ذریعہ سے ڈھونڈو تب اسے پالو گے۔ ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدا نے ان لوگوں کو جو بدکاری اور گمراہی میں پڑ گئے اپنے کلام میں مردہ کے نام سے موسوم کیا ہے اور نیکوکاروں کو زندہ قرار دیا ہے۔ اس میں بھید یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے غافل ہوئے ان کی زندگی کے اسباب جو کھانا پینا اور شہوتوں کی پیروی تھی منقطع ہوگئے اور روحانی غذا سے ان کو کچھ حصہ نہ تھا۔ پس وہ درحقیقت مرگئے اور وہ صرف عذاب اٹھانے کے لئے زندہ ہوں گے۔ اسی بھید کی طرف اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے۔ جیسا کہ وہ کہتا ہے۔ یعنی جو شخص مجرم بن کر خدا کے پاس آئے گا تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے وہ اس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ مگر جو لوگ خدا کے محب ہیں وہ موت سے نہیں مرتے کیونکہ ان کا پانی اور ان کی روٹی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ پھر برزخ کے بعد وہ زمانہ ہے جس کا نام عالمِ بعث ہے۔ اس زمانہ میں ہر ایک روح نیک ہو یا بد، صالح ہو یا فاسق ایک کھلا کھلا جسم حاصل کرے گی۔ اور یہ دن خدا کی ان پوری تجلیات کے ؔ لئے مقرر کیا گیا ہے جس میں ہر ایک انسان اپنے رب کی ہستی سے پورے طور پر واقف ہو جائے گا اور ہر ایک شخص اپنی جزاء کے انتہائی نقطہ تک پہنچے گا۔ یہ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ خدا سے یہ کیونکر ہو سکے گا کیونکہ وہ ہر ایک قدرت کا مالک ہے جو چاہتاہے کرتا ہے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔