جس کا نمونہ شوق دلانے کے لئے پہلے ہی دیا جاتا ہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ با خدا آدمی دنیا میں سے نہیں ہوتا۔ اسی لئے
تو دنیا اس سے بغض رکھتی ہے بلکہ وہ آسمان سے ہوتا ہے اس لئے آسمانی نعمت اس کو ملتی ہے۔ دنیا کا آدمی دنیا کی نعمتیں پاتا ہے اور آسمان کا آسمانی نعمتیں حاصل کرتا ہے۔ سو یہ بالکل سچ ہے
کہ وہ نعمتیں دنیا کے کانوں اور دنیا کے دلوں اور دنیا کی آنکھوں سے چھپائی گئیں۔ لیکن جس کی دنیوی زندگی پر موت آجائے اور وہ پیالہ روحانی طورؔ پر اس کو پلایا جائے جو آگے جسمانی طور پر
پیا جائے گا اس کو یہ پینا اس وقت یاد آجائے گا جبکہ وہی پیالہ جسمانی طور پر اس کو دیا جائے گا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس نعمت سے دنیا کی آنکھ اور کان وغیرہ کو بے خبر سمجھے گا۔ چونکہ
وہ دنیا میں تھا اگرچہ دنیا میں سے نہیں تھا۔ اس لئے وہ بھی گواہی دے گا کہ دنیا کی نعمتوں سے وہ نعمت نہیں۔ نہ دنیا میں اس کی آنکھ نے ایسی نعمت دیکھی نہ کان نے سنی اور نہ دل میں گذری۔ لیکن
دوسری زندگی میں اس کے نمونے دیکھے جو دنیا میں سے نہیں تھے بلکہ وہ آنے والے جہاں کی ایک خبر تھی اور اُسی سے اُس کا رشتہ اور تعلق تھا۔ دنیا سے کچھ تعلق نہیں تھا۔
عالم معاد کے
متعلق تین۳ قرآنی معارف
اب قاعدہ کلی کے طور پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ موت کے بعد جو حالتیں پیش آتی ہیں۔ قرآن شریف نے انہیں تین قسم پر منقسم کیا ہے اور عالم معاد کے متعلق یہ
تین قرآنی معارف ہیں۔ جن کو ہم جدا جدا اس جگہ ذکر کرتے ہیں۔
پہلا دقیقہ معرفت
اوّل۔ یہ دقیقہ معرفت ہے کہ قرآن شریف باربار یہی فرماتا ہے کہ عالم آخرت کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ
اسکے تمام نظارے اسی دنیوی زندگی کے اظلال و آثار ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے