اپنی طرف سے ایک فعل صادر کرتا ہے مثلاً انسان جس وقت اپنی کوٹھڑی کے تمام دروازوں کو بند کر دے تو انسان کے اس
فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہوگا کہ وہ اس کوٹھڑی میں اندھیرا پیدا کر دے گا۔ کیونکہ جو امور خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ہمارے کاموں کیلئے بطور ایک نتیجہ لازمی کے مقدر ہو چکے ہیں وہ
سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں۔ وجہ یہ کہ وہی علّتُ العلل ہے۔ ایسا ہی اگر مثلاً کوئی شخص زہر قاتل کھالے تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل صادر ہوگا کہ اسے ہلاک کر دے گا۔ ایسا ہی اگر
کوئی ایسا بیجا فعل کرے جو کسی متعدّ ی بیماری کا موجب ہو۔ تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہوگا کہ وہ متعدّ ی بیماری اس کو پکڑ لے گی۔ پس جس طرح ہماری دنیویؔ زندگی میں
صریح نظر آتا ہے کہ ہمارے ہر ایک فعل کے لئے ایک ضروری نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ ان دو مثالوں میں صاف فرماتا
ہے۔
یعنی جو لوگ اس فعل کو بجا لائے کہ انہوں نے خداتعالیٰ کی جستجو میں پوری پوری کوشش کی تو اس فعل کیلئے لازمی طور پر ہمارا یہ فعل ہوگا کہ ہم انکو اپنی راہ دکھاویں گے اور جن لوگوں
نے کجی اختیار کی اور سیدھی راہ پر چلنا نہ چاہا تو ہمارا فعل اسکی نسبت یہ ہوگا کہ ہم ان کے دلوں کو کج کر دیں گے اور پھر اس حالت کو زیادہ توضیح دینے کیلئے فرمایا۔
یعنی جو شخص اس
جہان میں اندھا رہا وہ آنے والے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ بلکہ اندھوں سے بدتر۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک بندوں کو خدا کا دیدار اسی جہان میں ہو جاتا ہے۔ اور وہ اسی جگ میں اپنے
اس پیارے کا درشن پا لیتے ہیں جس کے لئے وہ سب