کہ یہ بالکل صحیح نہیں ۔ ہم اس حیّ و قیّوم کو محض اپنی ہی تدبیروں سے ہرگز نہیں پاسکتے۔ بلکہ اس راہ میں صراط مستقیم صرفؔ یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی زندگی مع اپنی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے پھر خدا کے وصال کے لئے دعا میں لگے رہیں تا خدا کو خدا ہی کے ذریعہ سے پاویں۔ ایک پیاری دعا اور سب سے زیادہ پیاری دعا جو عین محل اور موقع سوال کا ہمیں سکھاتی ہے اور فطرت کے روحانی جوش کا نقشہ ہمارے سامنے رکھتی ہے وہ دعا ہے جو خدائے کریم نے اپنی پاک کتاب قرآن شریف میں یعنی سورہ فاتحہ میں ہمیں سکھائی ہے اور وہ یہ ہے۔ تمام پاک تعریفیں جو ہو سکتی ہیں۔ اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔۔وہی خدا جو ہمارے اعمال سے پہلے ہمارے لئے رحمت کا سامان میسر کرنے والا ہے اور ہمارے اعمال کے بعد رحمت کے ساتھ جزا دینے والا ہے۔ 3 وہ خدا جو جزاء کے دن کا وہی ایک مالک ہے۔ کسی اور کو وہ دن نہیں سونپا گیا۔ اے وہ جو ان تعریفوں کا جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں۔ اور ہم ہر ایک کام میں توفیق تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ اس جگہ ہم کے لفظ سے پرستش کا اقرار کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے تمام قویٰ تیری پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے آستانہ پر جھکے ہوئے ہیں کیونکہ انسان باعتبار اپنے اندرونی قویٰ کے ایک جماعت اور ایک امت ہے اور اس طرح پر تمام قویٰ کا خدا کو سجدہ کرنا یہی وہ حالت ہے جس کو اسلام کہتے ہیں۔ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا اور اس پر ثابت قدم کر کے ان لوگوں کی راہ دکھلا جن پر تیرا انعام و اکرام ہے۔ اور تیرے مورد فضل و کرم ہوگئے ہیں ۱؂ اور ہمیں