ہے۔ اور عادت میں ایک تبدّل عظیم پیدا ہوتا ہے اور انسان اپنی پہلی حالتوں سے بہت ہی دور جا پڑتا ہے، دھویا جاتا ہے اور صاف کیا جاتا ہے اور خدا نیکی کی محبت کو اپنے ہاتھ سے اس کے دل میں لکھ دیتا ہے اور بدی کا گند اپنے ہاتھ سے اس کے دل سے باہر پھینک دیتا ہے۔ سچائی کی فوج سب کی سب دل کے شہرستان میں آجاتی ہے۔ اور فطرت کے تمام برجوں پر راستبازی کا قبضہ ہو جاتا ہے اور حق کی فتح ہوتی ہے اور باطل بھاگ جاتا ہے اور اپنے ہتھیار پھینک دیتا ہے۔ اس شخص کے دل پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر ایک قدم خدا کے زیر سایہ چلتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ آیات ذیل میں انہی امور کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ یعنی خدا نے مومنوں کے دل میں ایمان کو اپنے ہاتھ سے لکھ دیا ہے اور روح القدس کے ساتھ ان کی مدد کی۔ اس نے اے مومنو! ایمان کو تمہارا محبوب بنا دیا اور اس کا حسن و جمال تمہارے دل میں بٹھا دیا اور کفر اور بدکاری اور معصیت سے تمہارے دل کو نفرت دے دی۔ اور بُری راہوں کا مکروہ ہونا تمہارے دل میں جما دیا۔ یہ سب کچھ خدا کے فضل اور رحمت سے ہوا۔ حق آیا۔ اور باطل بھاگ گیا اور باطل کب حق کے مقابل ٹھہر سکتا تھا۔ غرض یہ تمام اشارات اس روحانی حالت کی طرف ہیں جو تیسرے درجہ پر انسان کو حاصل ہوتی ہے اور سچی بینائی انسان کو کبھی نہیں مل سکتی جب تک یہ حالت اس کو حاصل نہ ہو۔ اور یہ جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ایمان ان کے دل میں اپنے ہاتھ سے لکھا اور روح القدس سے ان کی مدد کی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو سچی طہارت اور پاکیزگی کبھی حاصل