نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے۔ چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خدا دیکھتا، سنتا، جانتا، بولتا، کلام کرتا ہے۔ اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کیلئے یہ بھی فرماتا ہے۔ یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس کے لئے مخلوق سے مثالیں مت دو۔ سو خدا کی ذات کو تشبیہ اور تنزیہکے َ بین َ بین رکھنا یہی وسط ہے۔ غرض اسلام کی تعلیم تمام میانہ روی کی تعلیم ہے۔ سورہ فاتحہ بھی میانہ روی کی ہدایت فرماتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3۔ مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد ہیں جو خداتعالیٰ کے مقابل پر قوت غضبی کو استعمال کر کے قویٰ سبعیہ کی پیروی کرتے ہیں اور ضالین سے وہ مراد ہیں جو قوی بہیمیہ کی پیروی کرتے ہیں۔ اور میانہ طریق وہ ہے جس کو لفظ 3 3 سے یاد فرمایا ہے۔ غرض اس مبارک امت کے لئے قرآن شریف میں وسط کی ہدایت ہے۔ توریت میں خدائے تعالیٰ نے انتقامی امور پر زور دیا تھا اور انجیل میں عفو اور درگذر پر زور دیا تھا اور اس امت کو موقعہ شناسی اور وسط کی تعلیم ملی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یعنی ہم نے تم کو وسط پر عمل کرنے والے بنایا اور وسط کی تعلیم تمہیں دی۔ سو مبارک وہ جو وسط پر چلتے ہیں۔ خیر الامور اوسطھا۔ روحانی حالتیں تیسرؔ ا حصہ یعنی یہ کہ روحانی حالتیں کیا ہیں؟ واضح رہے کہ ہم پہلے اس سے بیان کر چکے ہیں کہ بموجب ہدایت قرآن شریف کے روحانی حالتوں کا منبع اور سرچشمہ نفس مطمئنہ ہے جو انسان کو با اخلاق ہونے کے مرتبہ سے باخدا ہونے کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔