ہے اور پھر ان شیشوں کے نیچے پانی چھوڑا گیا جو نہایت تیزی سے چل رہا ہے۔ اب ہر ایک نظر جو شیشوں پر پڑتی ہے وہ
اپنی غلطی سے ان شیشوں کو بھی پانی سمجھ لیتی ہے اور پھر انسان ان شیشوں پر چلنے سے ایسا ڈرتا ہے جیسا کہ پانی سے ڈرنا چاہئے۔ حالانکہ وہ درحقیقت شیشے ہیں مگر صاف شفاف۔ سو یہ بڑے
بڑے اجرام جو نظر آتے ہیں جیسے آفتاب و ماہتاب وغیرہ۔ یہ وہی صاف شیشے ہیں جن کی غلطی سے پرستش کی گئی اور ان کے نیچے ایک اعلیٰ طاقت کام کر رہی ہے جو اُن شیشوں کے پردہ میں پانی
کی طرح بڑی تیزی سے چل رہی ہے اور مخلوق پرستوں کی نظر کی یہ غلطی ہے کہ انہیں شیشوں کی طرف اس کام کو منسوب کر رہے ہیں جو ان کے نیچے کی طاقت دکھلا رہی ہے۔ یہی تفسیر اس
آیت کریمہ کی ہے۔
غرض چونکہ خدا تعالیٰ کی ذات باوجود نہایت روشن ہونے کے پھر بھی نہایت مخفی ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی شناخت کے لئے صرف یہ نظام جسمانی جو ہماری نظروں کے
سامنے ہے کافی نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ ایسے نظام پر مدار رکھنے والے باوجودیکہ اس ترتیب ابلغ اور محکم کو جو صدہا عجائبات پر مشتمل ہے نہایت غور کی نظر سے دیکھتے رہے بلکہ ہیئت
اور طبعی اور فلسفہ میں وہ مہارتیں پیدا کیں کہ گویا زمین و آسمان کے اندر دھنس گئے مگر پھر بھی شکوک و شبہات کی تاریکی سے نجات نہ پا سکے اور اکثر ان کے طرح طرح کی خطاؤں میں مبتلا
ہوگئے اور بیہودہ اوہام میں پڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے اور اگر ان کو اس صانع کے وجود کی طرف کچھ خیال بھی آیا تو بس اسی قدر کہ اس اعلیٰ اور عمدہ نظام کو دیکھ کر یہ ان کے دل میں پڑا
کہ اس عظیم الشان سلسلہ کا جو ُ پرحکمت نظام اپنے ساتھ رکھتا ہے کوئی پیدا کرنے والا ضرور چاہئے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ خیال نا تمام اور یہ معرفت ناقص ہے۔ کیونکہ یہ کہنا کہ اس سلسلہ کے
لئے ایک خدا کی ضرورت ہے اس دوسرے کلام سے ہرگز مساوی نہیں کہ وہ خدا درحقیقت ہے بھی۔ غرض یہ ان کی صرف قیاسی معرفت تھی جو دل کو اطمینان اور سکینت نہیں بخش سکتی اور نہ
شکوک