ہمدردئ خلق اور منجملہ انسان کے طبعی امور کے جو اس کی طبیعت کے لازم حال ہیں۔ ہمدردی خلق کا ایک جوش ہے۔ قومی حمایت کا جوش بالطبع ہر ایک مذہب کے لوگوں میں پایا جاتا ہے اور اکثر لوگ طبعی جوش سے اپنی قوم کی ہمدردی کے لئے دوسروں پر ظلم کر دیتے ہیں۔ گویا انہیں انسان نہیں سمجھتے۔ سو اس حالت کو خلق نہیں کہہ سکتے۔ یہ فقط ایک طبعی جوش ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حالت طبعی کوّ وں وغیرہ پرندوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ ایک کوّ ے کے مرنے پر ہزارہا کوّ ے جمع ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ عادت انسانی اخلاق میں اُس وقت داخل ہوگی جب کہ یہ ہمدردی انصاف اور عدل کی رعایت سے محل اور موقع پر ہو۔ اُس وقت یہ ایک عظیم الشان خلق ہوگا جس کا نام عربی میں مواسات اور فارسی میں ہمدردی ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلّ شانہٗ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے۔ یعنی اپنی قوم کی ہمدردی اور اعانت فقط نیکی کے کاموں میں کرنی چاہئے اور ظلم اور زیادتی کے کاموں میں ان کی اعانت ہرگز نہیں کرنی چاہئے۔ اور قوم کی ہمدردی میں سرگرم رہو۔ تھکو مت اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے مت جھگڑو جو خیانت کرنے سے باز نہیں آتے۔ خدا تعالیٰ خیانت پیشہ لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ایک برتر ہستی کی تلاش منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہیں ایک برتر