اور پھر فرمایا ہے کہ حقیقی نیکی کرنے والوں کی یہ خصلت ہے کہ وہ محض خدا کی محبت کے لئے وہ کھانے جو آپ پسند
کرتے ہیں مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ یہ کام صرف اس بات کے لئے کرتے ہیں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور اس کے منہ کے
لئے یہ خدمت ہے۔ ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارا شکر کرتے پھرو۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایصال خیر کی تیسری قسم جو محض ہمدردی کے جوش
سے ہے وہ طریق بجا لاتے ہیں۔ سچے نیکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خدا کی رضا جوئی کے لئے اپنے قریبیوں کو اپنے مال سے مدد کرتے ہیں اور نیز اس مال میں سے یتیموں کے تعہّد اور ان کی
پرورش اور تعلیم وغیرہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور مسکینوں کو فقر و فاقہ سے بچاتے ہیں اور مسافروں اور سوالیوں کی خدمت کرتے ہیں اور ان مالوں کو غلاموں کے آزاد کرانے کے لئے اور قرض
داروں کو سبکدوش کرنے کے لئے بھی دیتے ہیں اور اپنے خرچوں میں نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ تنگ دلی کی عادت رکھتے ہیں اور میانہ روش چلتے ہیں۔ پیوند کرنے کی جگہ پیوند کرتے ہیں اور خدا
سے ڈرتے ہیں اور ان کے مالوں میں سوالیوں اور بے زبانوں کا حق بھی ہے۔ بے زبانوں سے مراد کتے، بلیاں، چڑیاں، بیل، گدھے، بکریاں اور دوسری چیزیں ہیں۔ وہ تکلیفوں اور کم آمدنی کی حالت میں
اور قحط کے دنوں میں سخاوت سے دل تنگ نہیں ہو جاتے بلکہ تنگی کی حالت میں بھی اپنے مقدور کے موافق سخاوت کرتے رہتے ہیں۔ وہ کبھی پوشیدہ خیرات کرتے ہیں اور کبھی ظاہر۔ پوشیدہ اس لئے
کہ تاریا کاری سے بچیں اور ظاہر اس لئے کہ تا دوسروںؔ کو ترغیب دیں۔خیرات اور صدقات وغیرہ پر جو مال دیا جائے اس میں یہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ پہلے جس قدر محتاج ہیں ان کو دیا جائے۔ ہاں
جو خیرات کے مال کا تعہد کریںیا اس کے لئے انتظام و اہتمام کریں ان کو خیرات کے مال سے کچھ مال مل سکتا ہے اور نیز کسی کو بدی سے بچانے کے لئے بھی اس مال میں سے دے سکتے
ہیں۔