وغیرہ سب چیزیں جو پاک ہوں بیشک کھاؤ۔ مگر ایک طرف کی کثرت مت کرو اور اسراف اور زیادہ خوری سے اپنے تئیں بچاؤ۔
لغو باتیں مت کیا کرو۔ محل اور موقعہ کی بات کیا کرو۔ اپنے کپڑے صاف رکھو۔ بدن کو اور گھر کو اور کوچہ کو اور ہر ایک جگہ کو جہاں تمہاری نشست ہو پلیدی اور میل کچیل اور کثافت سے بچاؤ
یعنی غسل کرتے رہو اور گھروں کو صاف رکھنے کی عادت پکڑو۔ نہ بہت اونچا بولا کرو نہ بہت نیچا ۔ درمیان کو نگاہ رکھو یعنی باستثناء وقت ضرورت کے۔چلنے میں بھی نہ بہت تیز چلو اور نہ ؔ
بہت آہستہ درمیان کو نگاہ رکھو۔جب سفر کرو تو ہر ایک طور پر سفر کا انتظام کرلیا کرو اور کافی زاد راہ لے لیا کرو تا گداگری سے بچو۔ جنابت کی حالت میں غسل کرلیا کرو۔ جب روٹی کھاؤ تو سائل
کو بھی دو اور کتے کو بھی ڈال دیا کرو اور دوسرے پرند وغیرہ کو بھی۔ اگر موقع ہو یتیم لڑکیاں جن کی تم پرورش کرو ان سے نکاح کرنا مضائقہ نہیں لیکن اگر تم دیکھو کہ چونکہ وہ لاوارث ہیں شاید
تمہارا نفس ان پر زیادتی کرے تو ماں باپ اور اقارب والی عورتیں کرو جو تمہاری مؤدب رہیں اور ان کا تمہیں خوف رہے۔ ایک دو تین چار تک کر سکتے ہو بشرطیکہ اعتدال کرو اور اگر اعتدال نہ ہو تو
پھر ایک ہی پر کفایت کرو گو ضرورت پیش آوے۔ چار کی جو حد لگا دی گئی ہے وہ اس مصلحت سے ہے کہ تا تم پرانی عادت کے تقاضے سے افراط نہ کرو یعنی صد ہا تک نوبت نہ پہنچاؤ یا یہ کہ
حرامکاری کی طرف جھک نہ جاؤ اور اپنی عورتوں کو مہر دو۔
غرض یہ قرآن شریف کی پہلی اصلاح ہے جس میں انسان کی طبعی حالتوں کو وحشیانہ طریقوں سے کھینچ کر انسانیت کے لوازم اور
تہذیب کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس تعلیم میں ابھی اعلیٰ اخلاق کا کچھ ذکر نہیں۔ صرف انسانیت کے آداب ہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ اس تعلیم کی یہ ضرورت پیش آئی تھی کہ ہمارے نبی صلی
اللہ علیہ و سلم جس قوم کی اصلاح کیلئے آئے تھے وہ وحشیانہ حالت میں سب قوموں سے بڑھی ہوئی تھی۔ کسی پہلو میں انسانیت کا طریق ان میں قائم نہیں رہا تھا۔ پس ضرور تھا کہ سب سے پہلے
انسانیت کے ظاہری ادب ان کو سکھائے جاتے۔