کو غور سے دیکھنا چاہئے کہ وہ کیسے پیدا ہوتے ہی انسانی عادتیں دکھلانا شروع کر دیتا ہے اور پھر جب برس ڈیڑھ برس کا
ہوا۔ تو وہ عادات طبعیہ بہت نمایاں ہو جاتی ہیں۔ مثلاً پہلے جس طور سے روتا تھا اب رونا بہ نسبت پہلے کے کسی قدر بلند ہو جاتا ہے- ایسا ہی ہنسنا قہقہہ کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ اور آنکھوں میں
بھی عمداً دیکھنے کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور اس عمر میں یہ ایک اور امر طبعی پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنی رضامندی یا نارضامندی حرکات سے ظاہر کرتا ہے اور کسی کو مارتا اور کسی کو کچھ دینا
چاہتا ہے۔ مگر یہ تمام حرکات دراصل طبعی ہوتی ہیں۔ پس ایسے بچہ کی مانند ایک وحشی آدمی بھی جس کو انسانی تمیز سے بہت ہی کم حصہ ملا ہے۔ وہ بھی اپنے ہرایک قول اور فعل اور حرکت اور
سکون میں طبعی حرکات ہی دکھلاتا ہے اور اپنی طبیعت کے جذبات کا تابع رہتا ہے۔ کوئی بات اس کے اندرونی قویٰ کے تدبر اور تفکر سے نہیں نکلتی بلکہ جو کچھ طبعی طور پر اس کے اندر پیدا ہوا
ہے۔ وہ خارجی تحریکوں کے مناسب حال نکلتا چلا جاتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کے طبعی جذبات جو اس کے اندر سے کسی تحریک سے باہر آتے ہیں وہ سب کے سب برے نہ ہوں بلکہ بعض ان کے
نیک اخلاق سے مشابہ ہوں۔ لیکن عاقلانہ تدبر اور موشگافی کو ان میں دخل نہیں ہوتا اور اگر کسی قدر ہو بھی تو وہ بوجہ غلبہ جذبات طبعی کے قابل اعتبار نہیں ہوتا بلکہ جس طرف کثرت ہے اسی طرف
کو معتبر سمجھا جائے گا۔
حقیقی اخلاق
غرضؔ ایسے شخص کی طرف حقیقی اخلاق منسوب نہیں کر سکتے جس پرجذبات طبعیہ حیوانوں اور بچوں اور دیوانوں کی طرح غالب ہیں اور جو اپنی
زندگی کو قریب قریب وحشیوں کے بسر کرتا ہے بلکہ حقیقی طور پر نیک یا بد اخلاق کا زمانہ اس وقت سے شروع ہوتا ہے کہ جب انسان کی عقل خداداد پختہ ہو کر اس کے ذریعہ سے نیکی اور بدی یا
دو بدیوں یا دو نیکیوں کے درجہ میں فرق کرسکے۔ پھر اچھے راہ کے ترک کرنے سے اپنے دل میں ایک حسرت پاوے اور برے کام کے ارتکاب سے اپنے تئیں نادم۱ اور پشیمان دیکھے۔ یہ انسان کی
زندگی کا دوسرا زمانہ ہے۔ جس کو خدا کے پاک کلام قرآن شریف میں نفس لوّ امہ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ مگر یاد رہے کہ ایک وحشی کو نفس