واسطے اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا۔ کہ
۱
یعنی آج مائیں تمہاری تم پر حرام ہوگئیں۔ ایسا ہی وہ مردار کھاتے تھے۔ آدم
خور بھی تھے۔ دنیا کا کوئی بھی گناہ نہیں جو نہیں کرتے تھے۔ اکثر معاد سے منکر تھے۔ بہت سے ان میں سے خدا کے وجود کے بھی قائل نہ تھے۔ لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرتے تھے۔ یتیموں کو
ہلاک کر کے ان کا مال کھاتے تھے۔ بظاہر تو انسان تھے مگر عقلیں مسلوب تھیں۔ نہ حیا تھی نہ شرم تھی نہ غیرت تھی۔ شراب کو پانی کی طرح پیتے تھے۔ جسؔ کا زناکاری میں اول نمبر ہوتا تھا۔ وہی
قوم کا رئیس کہلاتا تھا۔ بے علمی اس قدر تھی کہ اردگرد کی تمام قوموں نے ان کا نام اُ ّ می رکھ دیا تھا۔ ایسے وقت میں اور ایسی قوموں کی اصلاح کیلئے ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم
شہر مکہ میں ظہور فرما ہوئے۔ پس وہ تین قسم کی اصلاحیں جن کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں۔ ان کا درحقیقت یہی زمانہ تھا۔ پس اسی وجہ سے قرآن شریف دنیا کی تمام ہدایتوں کی نسبت اَکمل اور اَتم
ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ دنیا کی اور کتابوں کو ان تین قسم کی اصلاحوں کا موقعہ نہیں ملا اور قرآن شریف کو ملا۔ اور قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بناوے اور انسان سے با
اخلاق انسان بناوے اور بااخلاق انسان سے با خدا انسان بناوے۔ اسی واسطے ان تین امور پر قرآن شریف مشتمل ہے۔
قرآنی تعلیم کا اصل منشاء اصلاحات ثلاثہ ہیں
اور قبل اس کے جو ہم اصلاحات
ثلاثہ کا مفصل بیان کریں یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن شریف میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو زبردستی ماننی پڑے بلکہ تمام قرآن کا مقصد صرف اصلاحات ثلاثہ ہیں اور اس کی تمام
تعلیموں کا لب لباب یہی تین اصلاحیں ہیں۔ اور باقی تمام احکام ان اصلاحوں کیلئے بطور وسائل کے ہیں اور جس طرح بعض وقت ڈاکٹر کو بھی صحت کے پیدا کرنے کے لئے کبھی