تک مانتا ہوں کہ کوئی شخص دکھ کے وقت جونکوں کے لگانے سے بھی پرہیز کرے اور آپ دکھ اٹھالے اور غریب جونک کی
موت کا خواہاں نہ ہو۔ بالآخر اگر کوئی مانے یا نہ مانے مگر میں مانتا ہوں کہ کوئی شخص اس قدر رحم کو کمال کے نقطہ تک پہنچادے کہ پانی پینا چھوڑ دے اور اس طرح پانی کے کیڑوں کے بچانے
کیلئے اپنے تئیں ہلاک کرے۔ میں یہ سب کچھ قبول کرتا ہوں لیکن میں ہرگز قبول نہیں کر سکتا کہ یہ تمام طبعی حالتیں اخلاق کہلا سکتی ہیں یا صرف انہیں سے وہ اندرونی گند دھوئے جا سکتے ہیں جن کا
وجود خدا کے ملنے کی روک ہے۔ میں کبھی باور نہیں کروں گا کہ اس طرح کا غریب اور بے آزار بننا جس میں بعض چارپایوں اور پرندوں کا کچھ نمبر زیادہہے۔ اعلیٰ انسانیت کے حصول کا موجب ہو
سکتا ہے بلکہ میرے نزدیک یہ قانون قدرت سے لڑائی ہے۔ اور رضا کے بھاریُ خلق کے برخلاف اور اس نعمت کو رد کرنا ہے جو قدرت نے ہم کو عطا کی ہے بلکہ وہ روحانیت ہر ایکُ خلق کو محل اور
موقعہ پر استعمال کرنے کے بعد اور پھر خدا کی راہوں میں وفاداری کے ساتھ قدم مارنے سے اور اسی کا ہو جانے سے ملتی ہے۔ جو اس کا ہو جاتا ہے اس کی یہی نشانی ہے کہ وہ اس کے بغیر جی ہی
نہیں سکتا۔ عارف ایک مچھلی ہے جو خدا کے ہاتھ سے ذبح کی گئی اور اس کا پانی خدا کی محبت ہے۔
اصلاح کے تین طریق
اب میں پہلے کلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ میں ابھی ذکر کر چکا
ہوں کہ انسانی حالتوںؔ کے سرچشمے تین ہیںیعنی نفس ا مّارہ۔ نفس لوّ امہ۔ نفس مطمئنہ اور طریق اصلاح کے بھی تین ہیں۔
اوّل یہ کہ بے تمیز وحشیوں کو اس ادنیٰ ُ خلق پر قائم کیا جائے کہ وہ
کھانے پینے اور شادی وغیرہ تمدنی امور میں انسانیت کے طریقے پر چلیں۔ نہ ننگے پھریں اور نہ کتوں کی طرح مردار خور ہوں اور نہ کوئی اور بے تمیزی ظاہر کریں۔ یہ طبعی حالتوں کی اصلاحوں
میں سے