ان سب باتوں پر ہدایتیں لکھی ہیں اور انسان کی جسمانی حالتوں کو روحانی حالتوں پر بہت ہی مؤثر قرار دیا ہے۔ اگر ان ہدایتوں کو تفصیل سے لکھا جائے تو میں خیال نہیں کر سکتا کہ اس مضمون کے سنانے کیلئے کوئی وقت کافی مل سکے۔ انسان کی تدریجی ترقی میں جب خدا کے پاک کلام پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ کیونکر اس نے اپنی تعلیموں میں انسان کو اس کی طبعی حالتوں کی اصلاح کے قواعد عطا فرما کر پھر آہستہ آہستہ اوپر کی طرف کھینچا ہے اور اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت تک پہنچانا چاہا ہے تو مجھے یہ ُ پرمعرفت قاعدہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اول خدا نے یہ چاہا ہے کہ انسان کو نشست برخاست اور کھانے پینے اور بات چیت اور تمام اقسام معاشرت کے طریق سکھلا کر اس کو وحشیانہ طریقوں سے نجات دیوے اور حیوانات کی مشابہت سے تمیز کلی بخش کر ایک ادنیٰ درجہ کی اخلاقی حالت جس کو ادب اور شائستگی کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں سکھلاوے۔ پھر انسان کی نیچرل عادات کو جن کو دوسرے لفظوں میں اخلاق رذیلہ کہہ سکتے ہیں اعتدال پر لاوے تا وہ اعتدال پاکر اخلاق فاضلہ کے رنگ میں آجائیں۔ مگر یہ دونوں طریقے دراصل ایک ہی ہیں کیونکہ طبعی حالتوں کی اصلاح کے متعلق ہیں صرف ادنیٰ اور اعلیٰ درجہ کے فرق نے ان کو دو قسم بنا دیا ہے۔ اور اس حکیم مطلق نے اخلاق کے نظام کو ایسے طور سے پیش کیا ہے کہ جس سے انسان ادنیٰ خلق سے اعلیٰ خلق تک ترقی کر سکے۔ اسلام کی حقیقت اور پھر تیسرا مرحلہ ترقیات کا یہ رکھا ہے کہ انسان اپنے خالق حقیقی کی محبت اور رضا میں محو ہو جائے اور سب وجود اس کا خدا کیلئے ہو جائے۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس کو یاد دلانے کیلئے مسلمانوں کے دین کا نام اسلام رکھاگیا ہے۔ کیونکہ اسلام اس بات کو کہتے ہیں کہ بکلی خدا کیلئے ہو جانا اور اپنا کچھ باقی نہ رکھنا۔ جیسا کہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے۔