ہوؔ جانا یہی راہ ہے جس کا نام اسلام ہے لیکن اس راہ پر وہی قدم مارتا ہے جس کے دل پر اس زندہ خدا کا خوف ایک قوی اثر
ڈالتا ہے۔ اکثر لوگ بیہودہ طریقوں پر نجات کے خواہشمند رہتے ہیں لیکن اسلام وہی طریق نجات بتاتا ہے جو درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ازل سے مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ سچے اعتقاد اور پاک
عملوں اور اس کی رضا میں محو ہونے سے اس کے قرب کے مکان کو تلاش کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اس کا قرب اور اس کی رضا حاصل ہو کیونکہ تمام عذاب خدا تعالیٰ کی دوری اور غضب
میں ہے پس جس وقت انسان سچی توبہ اور سچے طریق کے اختیار کرنے سے اور سچی تابعداری حاصل کرنے سے اور سچی توحید کے قبول کرنے سے خدا تعالیٰ سے نزدیک ہو جاتا ہے اور اس کو
راضی کرلیتاہے تو تب وہ عذاب اس سے دور کیا جاتا ہے لیکن یہ سوال کہ کیونکر انسان جھوٹے عقیدوں اور باطل خیالات میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ انسان اس وقت غلط خیالات اور
بدعقائد میں پھنس جاتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ کی سچی وحی کی پیروی نہیں کرتا بلکہ اپنے خود تراشیدہ خیالات یا اپنے جیسے کسی دوسرے انسان کے خیالات کا پیرو بن جاتا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ انسان
غلطی سے بچ نہیں سکتا اور اس کی فطرت پر سہو و نسیان غالب ہے پھر ایسی راہ میں جو نہایت باریک اور ساتھ اس کے نفسانی جذبات بھی لگے ہوئے ہیں کیونکر بچ سکتا ہے لہٰذا تمام سچے طالبوں
اور حقیقی راست بازوں نے اس بات کی تصدیق پر اپنے سرجھکا دئیے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں کو دریافت کرنے کیلئے اسی کی وحی اور الہام کی ضرورت ہے۔ حق کے طالب کیلئے
سب سے پہلے ضروری یہی مسئلہ ہے کہ کسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر یقین کامل پیدا ہو جائے لیکن جو ذات بالکل پوشیدہ اور غیب الغیب اور وراء الورا ہے انسان محض اپنی کوششوں
اور اپنے ہی خود ساختہ گیان اور معرفت سے اس پر یقین کامل نہیں لا سکتا بلکہ یک طرفہ کوششوں کا آخری نتیجہ شک اور وہم اور ہستی باری کا انکار ہے۔ کیونکہ جو شخص دس۱۰ یا بیس۲۰ برس یا
مثلاً پچاس برس تک خدا تعالیٰ کی طلب میں لگا رہے