وہ ؔ ایک شعر میں گرنتھ میں فرماتے ہیں ’’برکت تن کو اگلی پڑھتے رہن درود‘‘ یعنی جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر
درود بھیجتے ہیں انہیں کو آنے والے زمانہ میں برکت ملے گی۔ اور پھر ایک شعر گرنتھ میں فرماتے ہیں ’’کرنی کعبہ سچ پیر کلمہ کرم نواج‘‘ یعنی نیک کام کعبہ کے حکم میں ہیں جن کی طرف منہ
کرنا چاہئے اور سچ بولنا مرشد کے حکم میں ہے جس سے رہ ملتی ہے اور کلمہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ وہ چیز ہے جس سے قسمت کھلتی ہے اور عمل نیک ہو جاتے ہیں اب فرمائیے کہ کیا
ایسا شخص جو اس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھتا ہے کیا اس کی نسبت گمان کر سکتے ہیں کہ کوئی خلاف تہذیب کا کلمہ اس کے منہ سے نکلا ہوگا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ
گرنتھ صاحب کے ایسے اشعار جو تناقض کے مرض میں مبتلا ہیں تو اس کا یہ سبب نہیں کہ باوا نانک صاحب کی کلام میں تناقض تھا بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام اشعار دو سو بلکہ تین سو برس
بعد میں جمع کئے گئے اور ہر یک شعر کے پیچھے نانک کا اسم خواہ نخواہ لگا دیا گیا اگرچہ حال کے گرنتھ دان یہ بیان کرتے ہیں کہ جس شبد پر آسا محلہ پہلایا گوڑی محلہ پہلا لکھا ہوا ہو وہ تو
درحقیقت نانک صاحب کا ہی شعر ہے اور نہیں تو دوسرے جانشینوں کا شعر ہے لیکن جس حالت میں ہریک شعر کے آخر میں نانک کا لفظ پایا جاتا ہے تو یہ ایک نہایت قابل اعتراض کارروائی ہے کیونکہ
سراسر خلاف واقعہ اور جعل کے رنگ میں ہے اور اس صورت میں اُن شعروں سے بھی امان اٹھ گیا جو دراصل باوا نانک صاحب کے ہوں گے۔ اور اب کئی سو برس کے بعد کون فیصلہ کر سکتا ہے کہ
ان میں سے نانک صاحب کے کون سے شعر اور دوسروں کے کون سے شعر ہیں جن لوگوں نے بے محل اپنے شعروں کے اخیر پر نانک کا لفظ ملا دیا ان لوگوں نے اور کیا کچھ دخل نہیں دیا ہوگا۔ پھر
جبکہ یہ کارروائی دو سو برس بعد بلکہ مدت کے بعد کی کارروائی ہے تو ایسے مجموعہ پر کیونکر بغیر دوسرے شواہد کے بھروسہ ہو سکتا ہے اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ باوا صاحب کے اس ابتدائی
زمانہ کے بھی بعض شعر ہوں جبکہ انہوں نے ابھی اسلامی ہدایت سے شرف حاصل نہیں کیا تھا اور خیالات میں الٰہی روشنی حاصل نہیں ہوئی تھی اور ان خطاؤں اور غلطیوں میں پڑے ہوئے تھے جن
کا ان کو خود اقرار ہے لیکن چونکہ ان شعروں کے جمع کرنے میں پوری