کرؔ نے کے لئے آیا تھا اور کروڑہا مخلوق کو توحید کی روشنی سے منور کر کے چلا گیا۔ کیونکہ اگر نہیں بتایا تو اس صورت میں نانک صاحب کی تمام معرفت خاک میں ملتی ہے اور ہمیں امید نہیں کہ اس وقت راستی کے ساتھ آپ جواب دیں کیونکہ تعصب اور بخل سخت بلا ہے۔ اس لئے آپ کی طرف سے ہم ہی جواب دیتے ہیں۔ آپ اس کو غور سے پڑھیں۔ پس واضح ہو کہ نانک صاحب نے اس عظیم الشان مصلح نبی اللہ کا نام جو ہادی ازلی کی قدیم سنت کا اپنی نمایاں ہدایتوں کے ساتھ گواہ ہے محمد مصطفی رسولؐ اللہ بیان کیا ہے اور نہ صرف بیان بلکہ صدق دل سے اس سرور پاکان پر نانک صاحب ایمان لائے ہیں چنانچہ ہم کچھ تھوڑا نمونہ کے طور پر ذیل میں لکھتے ہیں اور حق کے طالبوں سے امید رکھتے ہیں کہ ایک صاف دل اور پاک نظر کے ساتھ ان بیانات پر نظر ڈالیں اور اس سچے حاکم سے ڈر کر جس کی طرف آخر جانا ہے۔ آپ ہی منصف بن جائیں کہ کیا یہ شہادتیں جو باوا صاحب کے منہ سے نکلیں۔ ایسی شہادتوں کے بعد باوا صاحب کے اسلام میں کچھ شک رہ سکتا ہے۔ چنانچہ ان میں سے باوا نانک صاحب کی وہ سی حرفی ہے جو ساکھی کلاں یعنی بالا والی ساکھی میں لکھی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے۔ ساکھی بھائی بھالے والی وڈی صفحہ ۲۲۰`۲۲۲ )یعنی ساکھی کلاں بالا والی جس کو انگد کی ساکھی بھی کہتے ہیں( آکھے قاضی رکن دین سنئے نانک شاہ تر ہی حرف قرآن دے ساجے آپ الٰہ معنے اک اک حرف تے کہئے کر تدبیر جس مراتب کو پہنچیا کے سادھو کے پیر الف بے فرمائے معنے کر کے بیان تسیں بھی آکھو شاہ جی سچی رب کلام صفت تمامی رب دی سبہا کھول سنائے آکھے قاضی رکن دین کہئے برا خدائے ہندو مسلمان دوئے دِسدے ہن گمراہ باجہوں جھگڑے ہور نہ ڈھونڈے سچ نہ راہ جہڑی گل خدائے دی کہے نہ کوئی مول کارن لالچ دنی دے جھگڑے رام رسول راہ سچاواں دسئے جے دس آوے جیو حجت حاجت ورج کر رہے نمانا تھیو