کو کماؔ ل تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی و الہام سے مشرف کر کے بھیجے گئے تو جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے ایسے شخص کی باوا صاحب کی طرف سے نظیر پیش ہونی چاہئے جس کی کتاب کی پیروی سے چورانوے کروڑ انسان نے مخلوق پرستی اور بت پرستی سے نجات پاکر اس اقرار کو اپنے دل اور جان میں بٹھایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو نہیں پوجوں گا اور پھر ایسے مو ّ حد اور نبی اللہ کو باوا صاحب نے مان لیا ہو۔ کیونکہ اگر باوا صاحب نے کسی ایسے کامل کے کمال کی تصدیق نہیں کی جو آپ بھی کامل تھا اور کروڑ ہا انسانوں کو اس نے توحید اور کمال توحید تک پہنچایا۔ تو پھر باوا صاحب پر وہی پہلا اعتراض ہوگا کہ نعوذ باللہ خدا نے باوا صاحب کو وہ آنکھیں نہیں دی تھیں جن آنکھوں سے وہ ان کاملوں کو شناخت کر سکتے جو باوا صاحب کے وجود سے پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے آتے رہے کیونکہ یہ بات تو صریح باطل ہے اور کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی کہ باوا صاحب سے پہلے دنیا ابتداء سے تاریکی میں تھی اور کوئی کامل خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا نہیں آیا تھا کہ جو نہ صرف آپ مو ّ حد ہو بلکہ کئی کروڑ انسانوں کو اس نے توحید پر قائم کیا ہو صرف باوا صاحب ہی دنیا میں ایسے آئے جو مو ّ حد اور حلال خور اور لالچوں سے پاک تھے جنہوں نے سکھوں کو کامل توحید پر قائم کیا اور اللہ اور بندوں کے حقوق کی نسبت پورا پورا بیان کر دیا۔ اور حلال حرام کے مسائل سارے سمجھا دئیے اور پھر ببداہت ایسا خیال کرنا جبکہ باطل اور ہادی قدیم کی عادت کے برخلاف ہے تو بیشک باوا صاحب نے کسی ایسے کامل کا اپنے اشعار میں ذکر کیا ہوگا جو خدا سے کمال پاکر دنیا میں آیا۔ اور کروڑ ہا انسانوں کو توحید اور خدا پرستی پر قائم کیا۔ پس جب ہم ایسے شخص کا نشان باوا صاحب کے شبدوں میں ڈھونڈتے ہیں تو جابجا سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلعم کا ذکر باوا صاحب کے شعروں میں پاتے ہیں۔ اور ضرور تھا کہ باوا صاحب ہندو مذہب کے ترک کرنے کے بعد اسلام میں داخل ہوتے کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو خدا کے قدیم سلسلہ سے الگ رہنے کی وجہ سے بے دین کہلاتے۔ ہاں یہ بات بالکل سچ ہے کہ باوا صاحب وید سے اور وید پرستوں سے بالکل الگ ہوگئے تھے تبھی تو انہوں نے کہا کہ برہما بھی روحانی حیات سے محروم گیا یہی سبب تھا کہ باوا صاحب سے اس قدر ہندو متنفر ہوگئے تھے۔ اور اس قدر ان کو پاک حالت سے دور اور کراہت کرنے کے لائق سمجھتے تھے کہ جہاں وہ کسی دوکان وغیرہ پر