گرو ؔ جس کے اس رہ پہ ہوویں فدا
وہ چیلہ نہیں جو نہ دے سرجھکا
اگر ہاتھ سے وقت جاوے نکل
تو پھر ہاتھ مل مل
کر رونا ہے کل
نہ مردی ہے تیر اور تلوار سے
بنو مرد مردوں کے کردار سے
سنو آتی ہے ہر طرف سے صدا
کہ باطل ہے ہر چیز حق کے سوا
کوئی دن کے مہمان ہیں ہم سب
سبھی
خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی
گرو نے یہ چولا بنایا شعار
دکھایا کہ اس رہ پہ ہوں میں نثار
وہ کیونکر ہو ان ناسعیدوں سے شاد
جو رکھتے نہیں اس سے کچھ اعتقاد
اگر مان لو گے
گرو کا یہ واک
تو راضی کرو گے اسے ہو کے پاک
وہ احمق ہیں جو حق کی راہ کھوتے ہیں
عبث ننگ و ناموس کو روتے ہیں
وہ سوچیں کہ کیا لکھ گیا پیشوا
وصیت میں کیا کہہ گیا بر
ملا
کہ اسلام ہم اپنا دیں رکھتے ہیں
محمد کی رہ پر یقیں رکھتے ہیں
اٹھو سونے والو کہ وقت آگیا
تمہارا گرو تم کو سمجھا گیا
نہ سمجھے تو آخر کو پچھتاؤ گے
گرو کے سراپوں کا
پھل پاؤ گے
چولہ کی مختصر تاریخ
کتاب ساکھی چولا صاحب سے یہ ثابت ہے کہ جب باوا نانک صاحب کا انتقال ہوا تو یہ چولا انگد صاحب کو جو پہلے جانشین باوا صاحب کے تھے ملا جس کو
انہوں نے گدی پر بیٹھنے کے وقت سر پر باندھا اور ہمیشہ بڑی تعظیم و تکریم کے ساتھ اپنے پاس رکھا۔ چنانچہ پانچویں گرو ارجنداس صاحب کے وقت تک ہریک گرو اپنی گدی نشینی کے وقت اس کو
مبارک سمجھ کر سر پر رکھتا رہا اور ان میں ایک فرض کی طرح یہ عادت تھی کہ بڑے بڑے درباروں میں اور عظیم الشان مہموں کے وقت یہ چولہ سر پر رکھتے اور اس سے