اورؔ ان کو چولہ دکھلایا گیا اور انہوں نے کلمہ طیّبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ چولہ پر لکھا ہوا دیکھا اور ایسا ہی کئی
اور آیات دیکھیں اور واپس آکر تمام حال ہمیں سنایا۔ لیکن ہم نے ان کے بیان پر بھی اکتفا نہ کیا۔ اور سوچا کہ باوا نانک کی اسلام کے لئے یہ ایک عظیم الشان گواہی ہے اور ممکن ہے کہ دوسروں کی
روایتوں پر تحقیق پسند لوگوں کو اعتماد نہ ہو اور یا آئندہ آنے والی نسلیں اس سے تسلی نہ پکڑ سکیں اس لئے یہ قرین مصلحت معلوم ہوا کہ آپ جانا چاہئے تا صرف شنید پر حصر نہ رہے اور اپنی ذاتی
رویت ہو جائے۔ چنانچہ ہم بعد استخارہ مسنونہ تیس ستمبر ۱۸۹۵ء کو پیر کے دن ڈیرہ نانک کی طرف روانہ ہوئے اور قریباً دس۱۰ بجے پہنچ کر گیارہ بجے چولا صاحب کے دیکھنے کے لئے گئے۔
اور ایک جماعت مخلص دوستوں کی میرے ساتھ تھی۔ جو چولا صاحب کے دیکھنے میں میرے شریک تھی۔ اور وہ یہ ہیں۔
(۱) اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی
)۳( اخویم مولوی
محمد احسن صاحب امروہی
(۵) اخویم منشی غلام قادرصاحب فصیح سیالکوٹی
)۷( اخویم شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم
)۹( سید محمد اسماعیل دہلوی
)۲( اخویم مولوی
عبدالکریم صاحب سیالکوٹی
)۴( اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی
)۶( اخویم میرزا ایوب بیگ صاحب کلانوری
)۸( اخویم میر ناصر نواب صاحب دہلوی
)۱۰( شیخ حامد
علی تھ غلام نبی
چنانچہ ایک مخلص کی نہایت درجہ کی کوشش اور سعی سے ہم کو دیکھنے کا وہ موقعہ ملا کہ اس جگہ کے لوگوں کا بیان ہے کہ جہاں تک یاد ہے ایسا موقع کسی کو بھی نہیں ملا
یعنی یہ کہ چولا صاحب کی تمام تحریرات پر ہمیں اطلاع ہوگئی اور ہمارے لئے وہ بہت ہی اچھی طرح کھولا گیا۔ اس پر تین ۳۰۰سو کے قریب یا کچھ زیادہ رومال لپیٹے ہوئے تھے اور بعض ان میں
سے بہت نفیس اور قیمتی تھے۔
* نوٹ۔ وہ میرے دوست جو مجھ سے پہلے میرے ایما سے ڈیرہ نانک میں گئے اور چولہ صاحب کو دیکھ کر آئے ان کے نام یہ ہیں۔ )۱( مرزا یعقوب بیگ صاحب
کلانوری )۲( منشی تاج دین صاحب اکونٹنٹ دفتر ریلوے لاہور۔ )۳( خواجہ کمال الدین صاحب بی اے لاہور )۴( میاں عبدالرحمن صاحب لاہوری۔ اور مرزا یعقوب بیگ نے چولہ دکھانے والوں
کو ایک روپیہ بھی دیا تھا۔ منہ