اپنےؔ مذہب کی آپ ہجو کرنا ہے۔ اگر باوا صاحب مکہ میں حج کی نیت سے نہیں گئے تھے بلکہ کرامت دکھلانے گئے تھے تو چاہئے تھا کہ کعبہ کو اسی جگہ چھوڑ آتے جس طرف پیر تھے۔ اگر زیادہ نہیں تو اپنے مقام مخصوص سے دس بیس قدم ہی کم و بیش ادھر ادھر کر آتے یا اپنے پیچھے پیچھے کعبہ کو اپنے گھر تک لے آتے تا اس کرامت کو دوسرے سکھ بھی دیکھ لیتے۔ مگر چونکہ اب تک کعبہ اُسی جگہ ہے جس جگہ پر وہ قدیم سے چلا آتا ہے اور مکہ والے باوا نانک صاحب کے نام سے بھی ناواقف ہیں قطع نظر اس سے جو کوئی ایسا اعجوبہ یاد رکھتے ہوں تو صاف ظاہر ہے کہ یہ نہایت مکروہ جھوٹ کسی شریر انسان کا افتراء ہے۔ باوا صاحب نے ہرگز ایسا دعویٰ نہ کیا۔ مکہ اسلام کا مرکز ہے۔ اور لاکھوں صلحاء اور علماء اور اولیاء اس میں جمع ہوتے ہیں۔ اور ایک ادنیٰ امر بھی جو مکہ میں واقع ہو فی الفور اسلامی دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے پھر ایسا عظیم الشان واقعہ جس نے اسلام اور قانون قدرت دونو کو زیر و زبر کر دیا۔ اور پھر ایسے نزدیک زمانہ کا کہ جس پر ابھی پورے چار سو۴۰۰ برس بھی نہیں گذرے۔ وہ لاکھوں آدمیوں کو فراموش ہو جائے اور صرف سکھوں کی جنم ساکھیوں میں پایا جائے کیا اس سے بڑھ کر اور کوئی بھی قابل شرم جھوٹ ہوگا۔ عجیب تر یہ کہ ان قصوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ باوا صاحب نے مکہ میں پنجابی بھاشا میں باتیں کیں اور مکہ کے رہنے والوں نے بھی پنجابی میں باتیں کیں۔ پھر باوا صاحب مدینہ میں پہنچے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا روضہ بھی ان کے پیروں کی طرف آیا۔ اور وہاں باوا صاحب نے پنجابی بھاشا میں شعر بنائے اور لوگوں نے پنجابی میں جواب دئیے۔ اب فرمائیے کہ یہ کس قدر جھوٹ ہے ظاہر ہے کہ عرب کے باشندے ہندی زبان کو نہیں سمجھ سکتے۔ پھر انہوں نے باوا صاحب کی بھاشا کو کیا سمجھا ہوگا۔ اگر یہ قصہ صحیح تھا تو باوا صاحب کی پہلی کرامت یہ چاہئے تھی کہ وہ عربی زبان والوں سے عربی میں ہی بات کرتے اور ان کے سنانے کیلئے عربی میں شعر بناتے نہ کہ پنجابی میں اور وہ عربی تقریر جو باوا صاحب عربوں کے ساتھ کرتے اور وہ عربی اشعار جو ان کو سناتے وہ سب جنم ساکھی یا گرنتھ میں لکھنے چاہئے تھے۔ اگر ایسا کرتے تو بیشک کسی قدر بات بن جاتی۔ مگر اب تو بجز مضحکہ عقلاء کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ پھر مکہ میں پہنچنے کے واقعات بھی