لائق توجہ گورنمنٹ
چونکہ سکھ صاحبوں کے بعض اخبار نے اپنی غلط فہمی سے ہمارے رسالہ ست بچن کو ایسا خیال کیا
ہے کہ گویا ہم نے وہ رسالہ کسی بدنیتی اور دلآزاری کی نیت سے تالیف کیا ہے اس لئے ہم گورنمنٹ کی حضور میں اس بات کو ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ یہ رسالہ جو ست بچن کے نام سے
موسوم ہے نہایت نیک نیتی اور پوری پوری تحقیق کی پابندی سے لکھا گیا ہے۔ اصل غرض اس رسالہ کی ان بے جا الزاموں کا رفع دفع کرنا ہے جو آریوں کے سرگردہ دیانند پنڈت نے بابانانک صاحب پر
اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں لگائے ہیں۔ اور نہایت نالائق لفظوں اور تحقیر آمیز فقروں میں باوا صاحب موصوف کی توہین اور تحقیر کی ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نہایت قوی اور
مضبوط دلائل سے ثابت ہوگیا ہے کہ باوا صاحب اپنے کمال معرفت اور گیان کی وجہ سے ہندوؤں کے ویدوں سے بالکل الگ ہوگئے تھے اور انہوں نے دیکھا کہ جس خدا کی خوبیوں میں کوئی نقص اور
کسی عیب کی تاریکی نہیں اور ہریک جلال اور قدرت اور تقدس اور کامل الوہیت کی بے انتہا چمکیں اس میں پائی جاتی ہیں۔ وہ وہی پاک ذات خدا ہے جس پر اہل اسلام عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس لئے انہوں
نے اپنی کمال خدا ترسی کی وجہ سے اپنا عقیدہ اسلام ٹھہرایا چنانچہ یہ تمام وجوہات ہم اس رسالہ میں لکھ چکے ہیں اور ایسے واضح اور بدیہی طور پر یہ ثبوت دے چکے ہیں کہ بغیر اس کے ماننے
کے انسان کو بن نہیں پڑتا اور ماسوائے اس کے یہ رائے کہ باوا صاحب اپنی باطنی صفائی اور اپنی پاک زندگی کی وجہ سے مذہب اسلام کو قبول کر چکے تھے صرف ہماری ہی رائے نہیں بلکہ ہماری
اس کتاب سے پہلے بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی یہی رائے لکھی ہے اور وہ کتابیں مدت دراز پہلے ہماری اس تالیف سے برٹش انڈیا میں تالیف ہوکر شائع بھی ہو چکی ہیں چنانچہ میں نے بطور
نمونہ پادری ہیوز کی ڈکشنری کے چند اوراق انگریزی اس رسالہ کے آخر میں شامل کر دئیے ہیں جن میں پادری صاحب موصوف بڑے دعویٰ سے باوا صاحب کا اسلام ظاہر کرتے ہیں۔ اور یہ ڈکشنری
تمام برٹش انڈیا میں خوب شائع ہو چکی ہے سکھ صاحبان بھی اس سے بے خبر نہیں ہیں اس صورت میں یہ خیال کرنا کہ اس رائے میں میں ہی اکیلا ہوں یا میں نے ہی پہلے اس رائے کا اظہار کیا ہے یہ
بڑی غلطی ہے ہاں میں نے وہ تمام دلائل جو دوسروں کو نہیں مل سکے اس کتاب میں اکٹھے کر کے لکھ دئیے ہیں جن محقق انگریزوں نے مجھ سے پہلے یہ رائے ظاہر کی کہ باوا صاحب درحقیقت
مسلمان تھے ان کے پاس کامل دلائل کا ذخیرہ نہ تھا مگر میری تحقیق سے یہ امر بدیہی طور پر کھل گیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ پادری ہیوز کی اس رائے پر جو بزبان انگریزی کتاب
ہذا کے آخر میں شامل ہے۔ توجہ فرماوے اور میں سکھ صاحبوں سے اس بات میں اتفاق رکھتا ہوں کہ بابا صاحب درحقیقت خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے تھے اور ان میں سے تھے جن پر الٰہی
برکتیں نازل ہوتی ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے صاف کئے جاتے ہیں اور میں ان لوگوں کو شریر اور کمینہ طبع سمجھتا ہوں کہ ایسے بابرکت لوگوں کو توہین اور ناپاکی کے الفاظ کے ساتھ یاد کریں
ہاں میں نے تحقیق کے بعد وہ پاک مذہب جس سے سچے خدا کا پتہ لگتا ہے اور جو توحید کے بیان میں قانون قدرت کا ہمزبان ہے اسلام کو ہی پایا ہے سو میں خوش ہوں کہ جس دولت اور صاف روشنی کو
مجھے دیا گیا مجھ سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے باوا صاحب کو بھی وہی دولت دی سو یہ ایک سچائی ہے جس کو میں چھپا نہیں سکتا اور میں اپنا اور باوا صاحب کا اس میں فخر سمجھتا
ہوں کہ یہ پاک توحید خدا کے فضل نے ہمیں دی۔
خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۰ نومبر ۱۸۹۵ ء