اوّلؔ یہ کہ ان دنوں میں مذہبی مباحثوں کے متعلق سلسلہ تقریروں اور تحریروں کا اس قدر ترقی پذیر ہوگیا ہے اور ساتھ ہی اس کے اس قدر سخت بدزبانیوں نے ترقی کی ہے کہ دن بدن باہمی کینے بڑھتے جاتے ہیں اور ایک زور کے ساتھ فحش گوئی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا دریا بہہ رہا ہے اور چونکہ اہل اسلام اپنے برگزیدہ نبی اور اس مقدس کتاب کے لئے جو اس پاک نبی کی معرفت ان کو ملی نہایت غیرت مند ہیں لہٰذا جو کچھ دوسری قومیں طرح طرح کے مفتریانہ الفاظ اور رنگارنگ کی ُ پرخیانت تحریر اور تقریر سے ان کے نبی اور ان کی آسمانی کتاب کی توہین سے ان کے دل دُکھا رہے ہیں یہ ایک ایسا زخم ان کے دلوں پر ہے کہ شاید ان کیلئے اس تکلیف کے برابر دنیا میں اور کوئی بھی تکلیف نہ ہو اور اسلامی اصول ایسے مہذبانہ ہیں کہ یاوہ گوئی کے مقابل پر مسلمانوں کو یاوہ گوئی سے روکتے ہیں مثلاً ایک معترض جب ایک بے جا الزام مسلمانوں کے نبی علیہ السلام پر کرتا ہے اور ٹھٹھے اور ہنسی اور ایسے الفاظ سے پیش آتا ہے جو بسا اوقات گالیوں کی حد تک پہنچ جاتے ہیں تو اہل اسلام اس کے مقابل پر اس کے پیغمبر اور مقتدا کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر وہ پیغمبر اسرائیلی نبیوں میں سے ہے تو ہریک مسلمان اُس نبی سے ایسا ہی پیار کرتا ہے جیسا کہ اس کا فریق مخالف وجہ یہ کہ مسلمان تمام اسرائیلی نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کی نسبت بھی وہ جلدی نہیں کرتے کیونکہ انہیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی ایسا آباد ملک نہیں جس میں کوئی مصلح نہیں گذرا اس لئے کہ گذشتہ نبیوں کی نسبت خاص کر اگر وہ اسرائیلی ہوں ایک مسلمان ہرگز بدزبانی نہیں کر سکتا بلکہ اسرائیلی نبیوں پر تو وہ ایسا ہی ایمان رکھتا ہے جیسا کہ نبی آخر الزمان کی نبوت پر۔ تو اس صورت میں وہ گالی کا گالی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہاں جب بہت دکھ اٹھاتا ہے تو قانون کی رو سے چارہ جوئی کرنا چاہتا ہے مگر قانونی تدارک بدنیتی کے ثابت کرنے پر موقوف ہے جس کا ثابت کرنا موجودہ قانون کی رو سے بہت مشکل امر ہے لہٰذا ایسا مستغیث اکثر ناکام رہتا ہے اور مخالف فتح یاب کو اور بھی توہین اور تحقیر کا موقعہ ملتا ہے اس لئے یہ بات بالکل سچی ہے کہ جس قدر تقریروں اور تحریروں کی رو سے مذہب اسلام کی توہین ہوتی ہے ابھی تک اس کا کوئی کافی تدارک قانون میں موجود نہیں۔ اور دفعہ ۲۹۸ حق الامر کے ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسا معیار اپنے ساتھ نہیں رکھتی جس سے صفائی کے ساتھ نیک نیتی اور بد نیتی میں تمیز ہو جائے یہیؔ سبب ہے کہ نیک نیتی کے