ہیں۔ کوئی کتھا یا قصہ یا کہانی مراد نہیں ہے۔ غرض ہریک باب میں عقلی دلیل جو کتابِ الہامی میں درج ہو دکھلادیں اور صرف اپنے ہی خیال سے کوئی قیاسی امر بیان کرنا کہ جس کا کوئی اصل صحیح کتاب میں نہیں پایا جاتا روا نہ رکھیں۔ کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے۔ کہ ربانی کتاب کا یہ آپ ذمہ ہے کہ اپنے الہامی ہونے کے بارے میں جو جو دعویٰ کرنا واجب ہے وہ آپ کرے اور اس کی دلائل بھی آپ لکھے اور ایسا ہی اپنے اصولوں کی حقیت کو آپ دلائل واضحہ سے بپایہ ¿ صداقت پہنچاوے نہ یہ کہ کتاب الہامی اپنا دعویٰ پیش کرنے اور اس کا ثبوت دینے سے قطعاً ساکت ہو اور اپنے اصولوں کی وجوہ صداقت پیش کرنے سے بھی بکلی سکوت اختیار کرے اور کوئی دوسرا اٹھ کر اس کی وکالت کرنا چاہے۔٭