قطعیہ عقلیہ پر مشتمل ہے بغرض اثبات حقانیت قرآن شریف جس سے یہ لوگ بکمال نخوت مونہہ پھیر رہے ہیں تالیف کیا ہے کیونکہ یہ بات اجلی بدیہات ہے جو سرگشتۂ عقل کو عقل ہی سے تسلی ہوسکتی ہے اور جو عقل کا رہزدہ ہے وہ عقل ہی کے ذریعہ سے راہ پر آسکتا ہے۔ اب ہریک مومن کے لئے خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دلائل عقلی حقیت قرآن شریف پر شائع ہوگئیں اور تمام مخالفینؔ کے شبہات کو دفع اور دور کیا جائے گا وہ کتاب کیا کچھ بندگان خدا کو فائدہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ و جلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا ایسے ضروری امر کی اعانت سے وہی لوگ لاپروا رہتے ہیں جو حالت موجودہ زمانہ پر نظر نہیں ڈالتے۔ اور مفاسد منتشرہ کو نہیں دیکھتے اور عواقب امور کو نہیں سوچتے یا وہ لوگ کہ جن کو دین سے کچھ غرض ہی نہیں اور خدا اور رسول سے کچھ محبت ہی نہیں۔ اے عزیزو!! اس ُ پرآشوب زمانہ میں دین اسی سے برپا رہ سکتا ہے جو بمقابلہ زور طوفان گمراہی کے دین کی سچائی کا زور بھی دکھایا جاوے اور ان بیرونی حملوں کے جو چاروں طرف سے ہورہے ہیں حقانیت کی قوی طاقت سے مدافعت کی جائے یہ سخت تاریکی جو چہرۂ زمانہ پر چھا گئی ہے یہ تب ہی دور ہوگی کہ جب دین کی حقیت کے براہین دنیا میں بکثرت چمکیں اور اس کی صداقت کی شعاعیں چاروں طرف سے چھوٹتی نظر آویں۔ اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی جمعیت بخش سکتی ہے کہ جو بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہو اور اس حقیقت کے اصل قرارگاہ تک پہنچاتی ہو کہ جس کے جاننے پر دلوں کی تشفی موقوف ہے۔ اے بزرگو!!! اب یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جو شخص بغیر اعلیٰ درجہ کے عقلی ثبوتوں کے اپنے دین کی خیر منانی چاہے تو یہ خیال محال اور طمع خام ہے۔ تم آپ ہی نظر اٹھا کر دیکھو جو کیسی طبیعتیں خود رائی اختیار کرتی جاتی ہیں اور کیسے خیالات بگڑتے جاتے ہیں اس زمانہ کی ترقی