اور جو زیر باریاں بوجہ کمی قیمت کتاب و کثرت مصارف طبع کے عائد حال ہیں ان کے جبر نقصان کے لئے کچھ لِلّٰہ فی اللّٰہ ہمت دکھلاتے منافقانہ باتیں کرنے سے ہمارے کام میں خلل انداز ہورہے ہیں اور لوگوں کو یہ وعظ سناتے ہیں جو کیا پہلی کتابیں کچھ تھوڑی ہیں جواب اس کی حاجت ہے اگرچہ ہم کو ان لوگوں کے اعتراضوں پر کچھ نظر اور خیال نہیں اور ہم جانتے ہیں جو دنیا پرستوں کی ہریک بات میں کوئی خاص غرض ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ اسی طرح شرعی فرائض کو اپنے سر پر سے ٹالتے رہتے ہیں کہ تا کسی دینی کارروائی کی ضرورت کو تسلیم کرکے کوئی کوڑی ہاتھ سے نہ چھوڑنی پڑے لیکن چونکہ وہ ہماری اس جہد بلیغ کی تحقیر کرکے لوگوں کو اس کے فوائد عظیمہ سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور باوصفیکہ ہم نے پہلے حصّہ کے پرچہ منضمہ میں وجوہ ضرورت کتاب موصوف کی بیان کردی تھیں پھر بھی بمقتضائے فطرتی خاصیت اپنی کے نیش زنی کررہے ہیں ناچار اس اندیشہ سے کہ مبادا کوئی شخص ان کی واہیات باتوں سے دھوکا نہ کھاوے پھر کھول کر بیان کیا جاتا ہے کہ کتاب براہین احمدیہ بغیر اشد ضرورت کے نہیں لکھی گئی۔ جس مقصد اور مطلب کے انجام دینے کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے اگر وہ مقصد کسی پہلی کتاب سے حاصل ہوسکتا تو ہم اسی کتاب کو کافی سمجھتے اور اسی کی اشاعت کے لئے بدل و جان مصروف ہوجاتے اور کچھ ضرور نہ تھا جو ہم سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اور اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ خرچ کرکے پھر آخرکار ایسا کام کرتے جو محض تحصیل حاصل تھا لیکن جہاں تک ہم نے نظر کی ہم کو کوئی کتاب ایسی نہ ملی جو جامع ان تمام دلائل اور براہین کی ہوتی کہ جن کو ہم نے اس کتاب میں جمع کیا ہے اور جن کا شائع کرنا بغرض اثبات حقیّت دین اسلام کے اس زمانہ میں نہایت ضروری ہے تو ناچار واجب دیکھ کر ہم نے یہ تالیف کی اگر کسی کو ہمارے اس بیان میں شبہ ہو تو ایسی کتاب کہیں سے نکال کر ہم کو دکھادے تاہم بھی جانیں ورنہ بیہودہ بکواس کرنا اور ناحق