سے وابستہ ہے اور بدون متابعت کے وہ ظہور میں آؔ ہی نہیں سکتا۔
ہستی فانی اور جس کی روح میں صریح مخلوقیت کے نقصان پائے جاتے ہیں۔ وہ باوجود اپنی تمام آلائشوں اورؔ کمزوریوں اور ناپاکیوں اور عیبوں اور نقصانوں کے اس ذاتِ جلیل الصفات سے برابر ہوسکتا ہے جو اپنی خوبیوں اور پاک صفتوں میں ازلی ابدی طور
بلاشبہ اب وہ وقت پہنچ گیا ہے کہ جس میں تمام دنیا ایک ہی ملک کا حکم پیدا کرتی جاتی ہے۔ اور بباعث شائع اور رائج ہونے کئی زبانوں کے تفہیم تفہم کے بہت سے ذریعے نکل آئے ہیں اور غیریّت اور اجنبیّت کی مشکلات سے بہت سی سبکدوشی ہوگئی ہے۔ اور بوجۂ میل ملاپ دائمی اور اختلاط شبا روزی کی وحشت اور نفرت بھی کہ جو بالطبع ایک قوم کو دوسری قوم سے تھی بہت سی گھٹ گئی ہے چنانچہ اب ہندو بھی جن کی دنیا ہمیشہ ہمالہ پہاڑ کے اندر ہی اندر تھی اور جن کو سمندر کا سفر کرنا مذہب سے خارج کردیتا تھا لنڈن اور امریکہ تک سیر کر آتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس زمانہ میں ہریک ذریعہ اشاعت دین کا اپنی وسعت تامہ کو پہنچ گیا ہے اور گو دنیا پر بہت سی ظلمت اور تاریکی چھا رہی ہے مگر پھر بھی ضلالت کا دورہ اختتام پر پہنچا ہوا معلوم ہوتا ہے اور گمراہی کا کمال رو بزوال نظر آتا ہے کچھ خدا کی طرف سے ہی طبائع سلیمہ صراط مستقیم کی تلاش میں لگ گئے ہیں اور نیک اور پاکیزہ فطرتیں طریقہ حقہ کے مناسب حال ہوتی جاتی ہیں اور توحید کے قدرتی جوش نے مستعد دلوں کو وحدانیت کے چشمۂ صافی کی طرف مائل کردیا ہے اور مخلوق پرستی کی عمارت کا بودہ ہونا دانشمند لوگوں پر کھلتا جاتا ہے اور مصنوعی خدا پھر دوبارہ عقلمندوں کی نظر میں انسانیت کا جامہ پہنتے جاتے ہیں اور باایں ہمہ آسمانی مدد دین حق کی تائید کے لئے ایسے جوش میں ہے کہ وہ نشان اور خوارق جن کی سماعت سے عاجز اور ناقص بندے خدا بنائے گئے تھے اب وہ حضرت سید الرسل کے ادنیٰ خادموں اور چاکروں سے مشہود ؔ اور محسوس ہورہے ہیں اور جو پہلے زمانہ کے بعض نبی صرف اپنے حواریوں کو چھپ چھپ کر کچھ نشان دکھلاتے تھے۔ اب وہ نشان حضرت سید الرسل کے