تمہیدؔ ہفتم۔ قرآن شریف میں جس قدر باریک صداقتیں علم دین کی اور علوم دقیقہ الٰہیّات کے اور براہینِ قاطعہ اُصولِ حقّہ کے معہ دیگر اسرار اور معارف کے مُندرج ہیں اگرچہ وہ تمام فی حدّ ذاتہا ایسے ہیں کہ قویٰ بشریہ اُن کو بہ ہیئت مجموعی دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور کسی عاقل کی عقل ان کے دریافت کرنے کے لئے بطور خود سبقت نہیں کرسکتی کیونکہ پہلے زمانوں پر نظر استقراری ڈالنے سے ثابت ہوگیا ہے کہ کوئی حکیم یا فیلسوف اُن علوم و معارف کا دریافت کرنے والا نہیں گزرا۔
ہے اور اُن کو باوجود دعویٰ عقل کے یہ باؔ ت سمجھ نہ آئی کہ خدا کا غضب بندہ کی حالت کا ایک عکس ہے جب انسان کسی مخالفانہ شر سے محجوب ہوجائے اور خدا سے دوسری طرف مونہہ پھیر لے تو کیا وہ اس لائق رہ سکتا ہے کہ جو سچے محبّوں اور صادقوں پر فیضان رحمت ہوتا ہے اس پر بھی وہی فیضان ہوجائے ہرگز نہیں بلکہ خدا کا قانونِ قدیم جو ابتدا سے چلا آیا ہے جس کو ہمیشہ راست باز اور صادق آدمی تجربہ کرتے رہے ہیں اور اب بھی صحیح تجارب سے اس کی سچائیوں کو مشاہدہ کرتے ہیں وہ یہی قانون ہے کہ جو شخص ظلماتی
آگیا۔ سو یہ وہ عظیم الشان پیشگوئی ہے جس کی مفصل حقیقت پر اس جگہ کے چند آریوں کو بخوبی اطلاع ہے اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس پیشگوئی سے پہلے سخت ضرورت پیش آنے کی وجہ سے دعا کی گئی اور پھر اس دعا کا قبول ہونا اور دس دن کے بعد ہی روپیہ آنے کی بشارت دیا جانا اور ساتھ ہی روپیہ آنے کے بعد امرتسر جانے کی اطلاع دیا جانا یہ سب واقعات حقہ اور صحیحہ ہیں اور پھر انہیں کے روبرو اس پیشگوئی کا پورا ہونا بھی ان کو معلوم ہے اور اگرچہ وہ لوگ بباعث ظلمت کفر کے خبث اور عناد سے خالی نہیں ہیں اور اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح بغض اور کینہ اسلام پر کمربستہ اور جیفۂ دنیا پر گرے ہوئے اور حق اور راستی سے بکلّی بے غرض ہیں لیکن اگر شہادت کے وقت ان کو قسم دی جائے تو بحالت قسم سے وہ سچ سچ بیان کرنے سے کسی طرف گریز نہیں کرسکتے اور اگر خدا سے نہیں تو رسوائی اور وبالِ قسم سے ڈر کر ضروری سچی گواہی دیویں گے۔