3 الجزو ۷۱ سورۃ الانبیاء براہین احمدیہ کے مخالفوں کی جلدی کئی ایک پادری صاحبوں اور ہندو صاحبوں نے جوش میں آکر اخبار سفیر ہند اور نور افشاں اور رسالہ وِدیا پرکاشک میں ہمارے نام طرح طرح کے اعلان چھپوائے ہیں جن میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ضرور ہم ردّاس کتاب کی لکھیں گے اور بعض صاحب ڈوموں کی طرح ایسے ایسے صریح ہجو آمیز الفاظ استعمال میں لائے ہیں کہ جن سے ان کی طینت کی پاکی خوب ظاہر ہوتی ہے گویا وہ اپنی اوباشانہ تقریروں سے ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں۔ مگر انہیں معلوم نہیں ہم تو ان کی تہہ سے واقف ہیں اور ان کے جھوٹے اور ذلیل اور پست خیال ہم پر پوشیدہ نہیں۔ سو ان سے ہم کیا ڈریں گے اور وہ کیا ڈراویں گے۔ کرمک پروانہ راچوں موت می آید فراز می فتد بر شمع سوزاں ازرہِ شوخی و ناز بہرحال ہم ان کی خدمت میں التماس کرتے ہیں کہ ذرا صبر کریں اور جب کوئی حصہ کتاب کی فصلوں میں سے چھپ چکتا ہے تب جتنا چاہیں زور لگالیں۔ ایک عام مقولہ مشہور ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں۔ سو ہم سچ پر ہیں۔ ہمارے سامنے کسی پادری یا پنڈت کی کیا پیش جاسکتی ہے اور کسی کی نری زبان کی فضول گوئی سے ہمارا کیا بگڑ سکتا ہے۔ بلکہ ایسی باتوں سے خود