نہیں پہنچتے اورؔ اصل حقیقت کو نہیں شناخت کرسکتے یہ مشہور کردیا کہ ایک روح کی مدد سے ایسے ایسے کام کرتا ہوں بالخصوص جبکہ یہ بھی ثابت ہے کہ خداوند تعالیٰ کی خالص طور پر پرستش کریں مسیح کی پرستش میں مشغول ہیں اور بجائے اس کے کہ اپنے کاروبار میں خدا سے مدد چاہیں مسیح سے مدد مانگتے رہتے ہیں اور ان کی زبانوں پر ہروقت ربّنا المسیح ربّنا المسیح جاری ہے۔ سوؔ وہ لوگ مضمون اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر عمل کرنے سے محروم اور راندہ درگاہِ الٰہی ہیں۔ ساتویں صداقت جو سور ۂفاتحہ میں درج ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِیْمَ ہے کے داغوں سے اور جہالت اور بے خبری کی ظلمتوں سے نجات حاصل کرے۔ سو ان کے مبارک عہد میں کچھ ایسی خاصیت ہوتی ہے اور کچھ اس قسم کا انتشار نورانیت ہوجاتا ہے کہ ہریک مومن اور طالب حق بقدر طاقت ایمانی اپنے نفس میں بغیر کسی ظاہری موجب کے انشراح اور شوق دینداری کا پاتا ہے اور ہمت کو زیادت اور قوت میں دیکھتا ہے۔ غرض ان کے اس عطر لطیف سے جو ان کو کامل متابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے ہریک مخلص کو بقدر اپنے اخلاص کے حظّ پہنچتا ہے ہاں جو لوگ شقی ازلی ہیں وہ اس سے کچھ حصہ نہیں پاتے بلکہ اور بھی عناد اور حسد اور شقاوت میں بڑھ کر ہاویہ جہنم میں گرتے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے 3۔ ۱؂ پھر ہم اسی تقریر کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کی غرض سے دوسرے لفظوں میں دوہرا کر یہ تفصیل لکھتےؔ ہیں کہ متبعین قرآن شریف کو جو انعامات ملتے ہیں اور جو مواہب خاصہ ان کے نصیب ہوتے ہیں اگرچہ وہ بیان اور تقریر سے خارج ہیں مگر ان میں سے کئی ایک ایسے انعاماتِ عظیمہ ہیں جن کو اس جگہ مفصّل طور پر بغرض ہدایت طالبین بطور نمونہ لکھنا قرین مصلحت ہے۔ چنانچہ وہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں:۔ ازانجملہ علوم و معارف ہیں جو کامل متبعین کو خوان نعمت فرقانیہ سے حاصل ہوتے