نظیریں پائی گئی ہیں اور اب بھی ہیں اور عندالعقل یہ بات نہایت صحیح اور قرین قیاس ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ کے ہاتھ سے ذریعہ نہیں بن سکتی ہاں ان معارف کے حاصل کرنے کے بعد ان کی صداقت اور سچائی کو سمجھ سکتی ہے لیکن وہ انکشاف صحیح اور کامل فقط اس پاک اور صاف روشنی سے ہوتا ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کی ذات میں موجود ہے اور عقل کی دود آمیز اور ناقص روشنی جو انسان میں موجود ہے اس جگہ عاجز ہے سو شرک اس طرح لازم آتا ہے کہ برہمو سماج والے خدا کے اس روشن کلام سے کہ جو انکشاف صحیح اور کامل کا مدار ہے مونہہ پھیر کر اور اس سے بکلی بے نیازی ظاہر کرکے اپنی ہی عقل ناقص کو رہبر مطلق ٹھہراتے ہیں اور بنائے کار بناتے ہیں۔ سو ان کا دل بیمار اس دھوکہ میں پڑا ہوا ہے کہ جس منزل عالی تک الٰہی قوتیں اپنی حمایتیں اور عنایتیں دکھلاتا ہے کہ صافی نگاہوں کی نظر میں ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ منظوران نظر احدیّت سے ہیں جن پر لطفِ ربانی کا ایک عظیم الشان سایہ اور فضل یزدانی کا ایک جلیل القدر پیرایہ ہے اور دیکھنے والوں کو صریح دکھائی دیتا ہے کہ وہ انعامات خارق عادت سے سرفراز ہیں اور کرامات عجیب اور غریب سے ممتاز ہیں اور محبوبیت کے عطر سے معطر ہیں اور مقبولیت کے فخروں سے مفتخر ہیں اور قادر مطلق کا نور اُن کی صحبت میں اُن کی توجہ میں اُن کی ہمت میں اُن کی دعا میں اُن کی نظر میں اُن کے اخلاق میں اُن کی طرز معیشت میں اُن کی خوشنودی میں اُن کے غضب میں اُن کی رغبت میں اُن کی نفرت میں اُن کی حرکت میں اُن کے سکون میں اُن کے نطق میں اُن کی خاموشی میں اُن کے ظاہر میں اُن کے باطن میں ایسا بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک لطیف اور مصفا شیشہ ایک نہایت عمدہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے فیض صحبت اور ارتباط اور محبت سے وہ باتیں حاصل ہوجاتی ہیں کہ جو ریاضتِ شاقہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں اور ان کی نسبت ارادت اور عقیدت پیدا کرنے سے ایمانی حالت ایک دوسرا رنگ پیدا کرلیتی ہے اور نیک اخلاق کے ظاہر کرنے میں ایک طاقت پیدا ہوجاتی ہے اور شوریدگی اور امّارگی نفس کی رو بکمی ہونے لگتی ہے۔ اور