دور کردیتا تھا خواہ نخواہ اس کے دل میں ایک قوی خیال پیدا ہوگا کہ اگر حضرت مسیحؔ نے کچھ خوارق عجیبہ دکھلائے ہیں تو بلاشبہ ان کا یہی موجب کرنا چاہتے ہیں۔ برہمو سماج والے الہام کی روشنی سے مونہہ پھیر کر اپنی عقل کو ایک دیوی قرار دے بیٹھے ہیں جو کہ ان کے زعم باطل میں خدا تک پہنچانے میں اختیار کلّی رکھتی ہے اور سب الٰہی اسرار پر ؔ محیط اور مُتصرّف ہے سو وہ لوگ بجائے خدا کی ہریک عقیدہ کو کھول دے مثلاً بہت سی پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ بیان کرکے اور پھر ان کا پورا ہونا دکھلا کر صفت عالم الغیبی کی جو خدائے تعالیٰ میں پائی جاتی ہے طالبِ حق پر ثابت کرے علیٰ ہذا القیاس اپنے تابعین کو پوری پوری مدد کا وعدہ دے کر اور پھر ان وعدوں کو پورا کرکے اپنا قادر اور صادق اور ناصر ہونا بہ پایۂ ثبوت پہنچاوے لیکن ان باتوں میں سے وید میں کوئی بھی نہیں بشرطیکہ کوئی انصاف پر آوے اور غور اور فکر سے نگاہ کرے تو اس پر ظاہر ہوگا کہ وید میں ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی پائی نہیں جاتی اور جس تکمیل علمی کے لئے کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اس تکمیل کا سامان وید کے پاس موجود نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر عقلی طور پر ایک عقلمند آدمی معرفت الٰہی کے لئے سامان طیار کرتا ہے اور حتی الوسع و الطاقت اپنے قدم کو غلطی اور خطا سے بچاتا ہے وہ مرتبہ بھی وید کو حاصل نہیں اور وید کے اصول ایسے فاسد اور بدیہی البطلان ہیں کہ دس برس کا بچہ بھی بشرطیکہ تعصّب اور ضد نہ کرے ان کی غلطی اور بے راہی پر شہادت دے سکتا ہے۔ پھر یہ بھی جاننا چاہئے کہ جن روحانی تاثیرات پر فرقان مجید مشتمل ہے ان سے بھی وید بکلی محروم اور تہید ستؔ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فرقان مجید باوجود ان تمام کمالات بلاغت و فصاحت و احاطۂ حکمت و معرفت ایک روحانی تاثیر اپنی ذات بابرکات میں ایسی رکھتا ہے کہ اس کا سچا اتباع انسان کو مستقیم الحال اور منوّر الباطن اور منشرح الصدر اور مقبولِ الٰہی اور قابل خطاب حضرت عزت بنا دیتا ہے اور اس میں وہ انوار پیدا کرتا ہے اور وہ فیوض غیبی اور تائیدات لاریبی اس کے شامل حال کر