چاہی ہے اور وہ علم مانگا ہے جو تمام دنیا میں متفرق تھا۔ خلاصہ یہ کہ گو خدائے تعالیٰ نے اصول نجات کو بہت واضح اور آسان طور پر اپنی کتاب میں بیان کردیا ہے جس کے معلوم کرنے اور جاننےؔ میں کسی نوع کی دقت اور ابہام نہیں اور جزایاب کو جزا کے وارد ہونے کے ساتھ ہی یہ بات معلوم اور متحقّق ہو کہ یہ فی الحقیقت اس کے اعمال کی جزا ہے اور نیز یہ بھی متحقّق ہو کہ اس جزا کا وارد کنندہ فی الحقیقت کریم ہی ہے جوؔ رب العالمین ہے کوئی دوسرا نہیں اور ان دونوں باتوں میں اریمان دیوتا کی مانند سب کا بڑھانے والا ہے۔ چونکہ تیرے میں وہ سب کلیں ہیں جوتیرے سبب سے آسمان زمین پہاڑیوں اور پانی سب میں پرگت ہے۔ اس لئے اے چاند راجہ ہم سے اچھی طرح پیش آ۔ اور بلاخفگی ہماری نذریں قبول کر۔ تو اے چاند جو تعریف کا شائق اور پودوں کا گورو ہے ہماری جان ہے۔ اگر تو چاہے گا تو ہم نہیں مریں گے۔ تو اے چاند اس شخص کو جو تیری پوجا کرتا ہے خواہ وہ جوان ہو یا بوڑھا دولت دیتا ہے تاکہ وہ اس سے حظ اٹھاوے اور زندہ رہے۔ اے چاند راجا ہمیں اس سے جو نقصان پہنچانے کی فکر میں ہے محفوظ رکھ تجھ جیسے دیوتا کا دوست کبھی نہیں مرسکتا۔ اے چاند دیوتا ہماری ایسی مدد کر کر رکشا کر جس سے بھوگ لگانے والے کو خوشیؔ حاصل ہوتی ہے۔ ہماری اس بلدان کو اور تعریف کو قبول فرما کر اے چاند دیوتا ہمارے پاس آ اور ہماری رسم کا ترقی دینے والا ہو۔ چونکہ ہم منتروں سے واقف ہیں اس سبب سے ہم تیری تعریف کرکر تیرا رتبہ بڑھاتے ہیں۔ اے کر پاندھان چاند ادھر آ۔ اے دولت بخشنے والے ہماری کھونے والی دولت سے آگاہ خوراک کے بڑھانے والے چاند دیوتا ہمارا ایک لائق مددگار ہو۔ اے چاند دیوتا ہمارے دلوں میں ایسا خوش رہ جیسے مویشی سبزہ زاروں میں یا انسان اپنے گھروں میں خوش رہتا ہے۔ اے چاند دیوتا ایسا ہو کہ قوت تیرے میں ہر طرف سے آوے ہمارے واسطے خوراک مہیا کرنے میں سرگرم ہو۔ اے خوش چاند