سے کام پڑا تو تمؔ خود ہی سوچو کہ اس صورت میں لازم تھا یا نہیں کہ وہ ہریک طور کی طبیعت پر اپنی عظمت اور حقانیت کو ظاہر کرتا اور ہریک طور کے شبہات کو مٹاتا۔ ماسوا اس کے اگرچہ اس کلام میں اُمّی بھی مخاطب ہیں مگر یہ تو نہیں کہ برہمو سماج والے خدائے تعالیٰ کیؔ رحیمیّت پر بھی کامل طور پر ایمان نہیں رکھتے۔ کیونکہ کامل رحیمیّت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ مستعد روحوں کو اُن کے فطرتی جوشوں کے مطابق اور اُن کے پُرجوش اخلاص کے اندازہ پر اور اُن کے صدق سے بھری ہوئی اپنیؔ طاقت عطا کرتا ہے جیسی سانڈھ گوؤں کی ریوڑ کی حفاظت کرتا ہے۔ ہم اے اندر۔ جو کہ ہرجگہ انسانوں میں موجود ہے تجھے بلاتے ہیں۔ ایسا ہو کہ تو صرف ہمارا ہی ہوجائے۔ اے اندر تیری حمایت کا ہمارے پاس ایک ذاتی ہتھیار ہے جس کے وسیلہ سے ہم اپنے مخالفوں پر ظفریاب ہوسکتے ہیں۔ اندر دیوتا بڑا طاقت والا اور عالی رتبہ ہے ایسا ہو کہ قدر ومنزلت ہمیشہ بجلی بردار کے قبضہ میں رہے۔ اس کی جرار فوجیں آسمان کی مانند ہمیشہ عظیم ہوں۔ حقیقت میں اندر کے گانے کے لائق یا پڑھنے کے لائق تعریف بار بار کرنی چاہئے۔ تاکہ وہ سوما کارس پیوے۔ اے اندر دیوتا یہاں آؤ اور اقسام اقسام کے ارگوں سے اور کھانوں سے سیر ہو کر اور قوت حاصل کرکر اپنے دشمنوں پر ظفریاب ہو۔ اے اندر نعمتوں کے بخشنے والے اور اپنے پوجاریوں کی رکشا کرنے والے میں نے تیری تعریف کی ہے جو تجھ تک پہنچ گئی ہے اور جس کو تو نے منظور کیا ہے۔ اے متمول اندر اس رسم میں ہمیں دولت حاصل کرنے کے لئے دلیر کر کیونکہ ہم محنتی اور مشہور ہیں۔ اے اندر ہمیں بے اندازہ بے شمار اور لازوال دولت بخش جو مویشی اور خوراک اور زندگانی کا چشمہ ہے۔ اے اندر ہمیں نامور کر اور ایسی دولت دے جو ہزاروں طریقوں سے حاصل ہو۔ اور وہ کھانے کی چیزیں جو کھیتوں سے چھکڑوں میں آتی ہیں عطا کر۔ ہم اندر کو اپنے مال کی حفاظت کے واسطے مدح کرکر بلاتے ہیں۔ ایسا اندر جو دولت کا مالک ہے اور جس کی لوگ تعریف کرتے ہیں اور جو یگ کرنے کی جگہ آمدورفت رکھتا ہے۔ اے ستاکرتو اندر شام وید کے پڑھنے والے