دیکھو کہ وہ ویسے کے ویسے رہے یا نہیں۔ اور یہ وسواس کہ خدا نے اپنی کتاب امیوں اور بدوؤں کے لئے بھیجی ہے(ان کی سمجھ کے موافق چاہئےؔ ) ٹھیک نہیں ہے۔ اول تو اس میں یہ جھوٹ ہے کہ وہ کلام نرا امیوں کی تعلیم کے لئے نازل ہوا
یعنے اپنا پاک اور روشن کلام دنیا کے انجام کے لئے بھیجا ہو۔ اور جس علم کی مستعد روحوں کو ضرورت ہے وہ سب علم آپ عطا فرمایا ہو۔ اور جن شکوک اور شبہات میں اُن کی ہلاکت ہے اِن سب شکوک سے آپ نجات بخشی ہو لیکن اِس کامل رحمانیت کو برہموسماج والے تسلیم نہیںؔ کرتے۔ اور ان کے زعم میں گو خدا نے انسان کے شکم
متوجہ ہوا۔ اور اس کو مار کر اپنی طبیعت خوش کی۔ اے جنگل کے مالکو پسندیدہ صورت والو تم دونوں ہمارا شیریں سوم کارس دل پسند ارگون سمیت اندر کے واسطے طیار کرو۔ سوم کے رس کا بقیہ کرچھیوں میں لاؤ اور اس کو کشا کے پتہیوں پر چرچو اور جو باقی بچے اس کو گائے کی کھال پر رکھ دو یعنی ہتھیلی پر جو کہ گائے کی کھال کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اے سوم کی رس کے پینے والے اندر گو ہم مستحق نہ ہوں پر تو ہمیں ہزارہا عمدہ گوئیں اور گھوڑے دے کر مالا مال کر۔ اے خوبصورت اور طاقتور اندر خوراک کے مالک تیری شفقت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ ہمیں ہزاروں عمدہ گھوڑے اور گوئیں دے۔ ہر ایک کو جو ہمیں گالی دیتا ہے غارت کر۔ ہر ایک جو ہمیں نقصان پہنچاتا ہے قتل کر اور ہمیں ہزاروں گھوڑے اور گوئیں دے۔ اے اندر جو ہماری بہتری میں راضی ہوتا ہے۔ ایسا کر کہ ہمیں خوراک بافراط ملے اور مضبوط اور بہتؔ دودھ پینے والی گوئیں ہمارے ہاتھ آویں جن کے باعث سے ہم عیش و عشرت میں مشغول رہیں۔ اے اندر اور اگنی میں جو دولت کا خواہشمند ہوں تم دونوں کو اپنے دل میں رشتہ دار اور قرابتی تصور کرتا ہوں۔ ادراک جو تم نے مجھے عطا کیا ہے کسی دوسرے نے کبھی نہیں دیا۔ اور اس طرح بہرہ مند ہوکر میں نے یہ منتر جس میں میں نے اپنی خوراک کی خواہش ظاہر کی ہے تمہاری تعریف میں بنایا ہے۔ اے اندر اور اگنی نعمتوں کے عطا کرنے والو خواہ پاتال لوگ مرت لوگ یا سرگ لوگ جہاں کہیں