آئے تھے۔ ان سب پر قرآن شریف محیط ہے۔ پس کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خدا کا کلام جامعؔ ؔ دقائقِ دینیہ ہے اور میں اس بات کو مکرر لکھتا ہوں کہ خدا نے اس طرز کے اختیار کرنے میں انسان پر کوئی مصیبت نہیں ڈالی بلکہ اول اس کو اسی طرح وہ خدائے تعالیٰ کی رحمانیت پر بھی کامل طور پر ایمان نہیں لاتے۔ کیونکہ کامل رحمانیت یہ ہے کہ جس طرحؔ خدائے تعالیٰ نے ابدان کی تکمیل اور تربیت کے لئے تمام اسباب اپنے خاص دستِ قدرت سے ظاہر فرمائے ہیں۔ اور اس چند روزہ ایسا ہو کہ وہ جل جو سورج کے قریب ہیں اور وہ جو سورج کے شریک رہتے ہیں۔ ہماری اس ریت پر مہربان ہوں۔ اے دھرتی دیوتا ایسا نہ ہو کہ تو بہت وسیع ہوجائے۔ تجھ پر کانٹے نہ رہیں اور تو ہمارے رہنے کی جگہ ہوجائے اور ہمیں بڑی خوشی دے۔ ایسا ہو کہ درونا دیوتا ہمارا خاص مہربان ہوجائے۔ ایسا ہو کہ مترا دیوتا ہماری نگہبانی کرے۔ ایسا ہو کہ یہ دونوں مل کر ہمیں نہایت دولت مند کردیں۔ اے نشتری دیوتا تو اور تیری بی بی یگ کے دیوتاؤں سےؔ ہماری سفارش کرو۔ اے اگنی دیوتاؤں کو یہاں لا۔ ان کو تین جگہ بٹھا اور انہیں آراستہ کر۔ اور تو رتو دیوتا کا ہم پیالہ ہو۔ اے اگنی سرخ گھوڑوں کے سوامی لال لاٹوں والے ہم سے خوش کر تیت تیتیسدیوتاؤں کو یہاں لا۔ ہم اگنی کے جو مذہبی رسوم میں روشن کی جاتی ہے پرستش کرتے ہیں۔ عاقلوں نے اے اگنی تجھے دیوتاؤں کا بلانے والا کارکن پر وہت بڑی دولت بخشنے والا جلد سننے والا اور بہت مشہور پاکر اپنے یگوں میں رکھا ہے۔ اگنی ہوا سے بھڑک کر اور مشتعل ہوکر بڑی بڑی لکڑیوں میں بآسانی گھس جاتی ہے۔ اے اگنی جب تو سانڈھ کی طرح بن میں گھس جاتی ہے تب تو جس طرف جائے تیرا راستہ سیاہ ہوتا جاتا ہے یعنی لکڑیوں کو جلا کر بھسم کرتی جاتی ہے اور سب چیزوں کو جو آگے آتی ہیں خواہ ساکن ہوں یامتحرک جلا دیتی ہے۔ میں اگنی کی جو ہر قسم کی دولت کا دینے والا ہے پوجا کرتی ہوں۔ اگنی جس میں ایسی روشنی ہے جو کہ اور کو حاصل نہیں ہوسکتی وہ یگ کے مکان میں سب کی زیبائش ہے جیسے گھر کی زیبائش عورت