فی السموات والارض پائے جاتے ہیں۔ ان کی اصلاح کے لئے اس میں سامان موجود ہو۔ پس اگر وہ ناقص ہو تو اتنے بڑے کام اس سے کیونکر انصرام ہوسکیں۔ اگر وہ تمام غلطیوں سےؔ انسان کو پاک نہ کرسکتا تو پھر صرف بعض غلطیوں سے پاک
نہیں کرشن کی خدائی اس سے قوی تر ہے۔ اسی طرح کوئی بدھ کو کوئی کسی کو کوئی کسی کو خدا ٹھہراتا ہے۔ ایسا ہی آخری زمانہ کے ان سادہ لوحوں نے بھی پہلے مشرکوں کی ریس کرکے ابن مریم کو بھی خدا اور خدا کا فرزند ٹھہرالیا۔ غرض عیسائی لوگ نہ خداوند حقیقی کو رب العالمین سمجھتے ہیں نہ اسے رحمان اور رحیم خیال کرتے ہیں اور نہ جزا سزا اس کے ہاتھ میں یقین رکھتے ہیں، بلکہ ان کے گمان میں حقیقی خدا کے وجود سے زمین اور آسمان خالی پڑا ہوا ہے اور جو کچھ ہے ابن مریم ہی ہے۔ اگر رب ہے تو وہی ہے۔ اگر رحمان ہے تو وہی ہے۔ اگر رحیم ہے تو وہی ہے۔ اگر مالک یوم الدین ہے تو وہی ہے۔ ایسا ہی عام ہندو اور آریہ بھی ان صداقتوں سے منحرف ہیں۔ کیونکہ ان میں سے جو آریہ ہیں۔ وہ تو خدائے تعالیٰ کو خالق ہی نہیں سمجھتے۔ اور اپنی روحوں کا رب اس کو قرار نہیں دیتے۔ اور جو ان میں سے بت پرست
گئے اور جو مضمون دل کو اچھا لگا وہی جھک ماری۔ نہ حق اور حکمت کی پابندی ہے اور نہ فضول گوئی سے پرہیز ہے اور نہ یہ خیال ہے کہ اس ؔ کلام کے بولنے کے لئے کون سی سخت ضرورت درپیش ہے اور اس کے ترک کرنے میں کون سا سخت نقصان عائد حال ہے ناحق بے فائدہ فقرہ سے فقرہ ملاتے ہیں۔ سر کی جگہ پاؤں، پاؤں کی جگہ سر لگاتے ہیں۔ سر اب کی طرح چمک تو بہت ہے پرحقیقت دیکھو تو خاک بھی نہیں۔ شعبدہ باز کی طرح صرف کھیل ہی کھیل اصلیت دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ نادار۔ ناطاقت اور ناتوان اور گئے گزرے ہیں آنکھیں اندھی اور اس پرَ عشوہ گری ان کی نسبت نہایت ہی نرمی کیجئے تو یہ کہیئے کہ وہ سب ضعیف اور ہیچ ہونے کی وجہ سے عنکبوت کی طرح ہیں اور ان کے اشعار بیت عنکبوت ہیں۔ ان کی نسبت خداوند کریم نے خوب فرمایا ہے